افغانستان میں انسانی حقوق کے سابق خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ کے حالیہ بیانات نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ طالبان کی جانب سے اپنے ملک میں داخلے پر پابندی کے باوجود، وہ بیرونِ ملک بیٹھ کر اسی حکومت کے مؤقف کو تقویت دے رہے ہیں۔ ناقدین نے ان کے اس طرزِ عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
دفاعی و سیاسی حلقوں کے مطابق بینیٹ انسانی حقوق کے نام پر طالبان حکومت کے لیے بالواسطہ وکالت کر رہے ہیں۔ ان کے بیانات زمینی حقائق اور خطے میں سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس کے اثرات کو دانستہ چھپاتے ہیں۔
دہشت گرد گروہوں سے نظر اندازی
اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی کے حکام افغان سرزمین پر 20 سے زائد شدت پسند گروہوں کی موجودگی کی تصدیق کر چکے ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق افغانستان کے متعدد صوبے ان عسکریت پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں۔
اس کے برعکس رچرڈ بینیٹ محض یونا ما کے منتخب بیانات کا سہارا لے کر سنسنی پھیلاتے ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان رپورٹس پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جن میں سرحد پار دہشت گردی کے خطرات واضح کیے گئے ہیں۔
انسانی ڈھال استعمال کرنے پر خاموشی
ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان ہسپتالوں، اسکولوں اور شہری عمارتوں کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان مقامات کو ڈرون حملوں کی تیاری اور اسلحہ چھپانے کا اڈا بنایا جاتا ہے، تاکہ کارروائی کی صورت میں شہریوں کو ڈھال بنایا جا سکے۔
رچرڈ بینیٹ سوشل میڈیا پر شہری ہلاکتوں کے دعوے تو پوسٹ کرتے ہیں، لیکن دہشت گردوں کے مبینہ نیٹ ورکس اور ان مجرمانہ حربوں پر بات کرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔
غیر جانبداری پر سوالیہ نشان
مبصرین کے مطابق بینیٹ کا مؤقف صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خود اقوام متحدہ کے مستند جائزوں سے بھی متصادم ہے۔ وہ کابل سے بے دخل کیے جانے کے باوجود طالبان کے پسندیدہ بیانیے کو عالمی سطح پر فروغ دے رہے ہیں۔
یہی یکطرفہ رویہ ناقدین کے اس الزام کی توثیق کرتا ہے کہ رچرڈ بینیٹ غیر جانبدار نگران کے بجائے اقوام متحدہ کا کارڈ استعمال کرنے والے طالبان کے حمایتی بن چکے ہیں۔