وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے لانگ مارچ کے ذریعے بدامنی اور تشدد کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی مدد سے یہ خطرناک منصوبہ بنایا گیا ہے۔ سکیورٹی اداروں کو اس منصوبے کی بروقت اطلاع مل چکی ہے۔
خواجہ آصف نے بنوں واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے خودکش حملہ کیا گیا اور بعد میں ہجوم نے سپلائی ڈپو پر دھاوا بولا۔ ان کے مطابق اب بھی اسی طرز پر مظاہروں کی آڑ میں تنصیبات کو نشانہ بنانے کی سازش ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشتبہ طور پر یہ لانگ مارچ صرف خیبر پختونخوا تک محدود رکھا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد پولیس اور عسکری چوکیوں کے قریب انتشار پھیلانا ہے۔
وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ کور کمانڈرز کانفرنس میں واضح کر دیا گیا ہے کہ نو مئی جیسی شرپسندی برداشت نہیں ہوگی۔ ریاست ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلاتفریق کارروائی کرے گی۔
خواجہ آصف نے زور دیا کہ سیاسی جدوجہد اور مسلح بغاوت میں فرق ہوتا ہے۔ ملک کی سالمیت پر حملے کی کسی بھی کوشش کو پوری قوت سے ناکام بنایا جائے گا۔