پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجودہ خارجہ پالیسی کے بیانیے اور سیاسی طرزِ عمل پر سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جماعت کا موجودہ مؤقف اس کے ماضی کے دعووں سے متصادم ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بیرونی مداخلت کے الزامات اور سائفر بیانیے پر سیاست چمکانے والی جماعت اب خود بیرونی طاقتوں سے رابطے اور ریلیف کی راہیں تلاش کر رہی ہے۔ اس رویے کو کھلی تضاد بیانی قرار دیا جا رہا ہے۔
مخالفین کا مؤقف ہے کہ ماضی میں عوام کو کیا ہم غلام ہیں کا سبق پڑھانے والی قیادت آج بیرونی دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔ اقتدار میں خودمختاری کا راگ الاپنا اور اپوزیشن میں باہر سے مدد کی توقع رکھنا واضح دوہرا معیار ہے۔
ملکی سطح پر احتجاج اور لانگ مارچ کی سیاست کرنے والی قیادت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بیرونی مداخلت کی امیدیں باندھنے کے بجائے ملکی اداروں اور آئینی فریم ورک کے دائرے میں رہ کر مسائل کا حل تلاش کرے۔