پی ٹی ایم کی جانب سے برطانیہ اور کینیڈا میں سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی ایم یو کے نے لندن میں 38ویں انٹرنیشنل کانفرنس آن سندھ 2026 میں شرکت کی، جبکہ پی ٹی ایم کینیڈا نے ٹورنٹو میں اپنی کانفرنس کا انعقاد کیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت بیرونِ ملک عوامی حمایت حاصل کرنے کی متعدد مبینہ ناکام کوششوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ جنیوا مارچ، اقوام متحدہ کے باہر مظاہروں اور سوشل میڈیا اسپیسز میں عوامی عدم دلچسپی کے بعد تنظیم اب غیر ملکی پلیٹ فارمز کا رخ کر رہی ہے۔
ملک کے اندر مقبولیت میں نمایاں کمی کے باعث پی ٹی ایم مبینہ طور پر بیرونِ ملک مقیم علیحدگی پسند عناصر سے رابطے بڑھا رہی ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس کا مقصد اپنی بین الاقوامی سیاسی ساکھ کو بحال کرنا اور پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانا ہے۔
A Special Invitation from Sherbano Afridi
— PTM CANADA (@PTM_Canada) October 3, 2026
Sherbano Afridi, granddaughter of the legendary Pashtun freedom fighter Ajab Khan Afridi, extends a special invitation to everyone to attend the PTM Canada International Conference in Toronto on October 11, 2026.
Join us as we bring… pic.twitter.com/ZYb3SATWSj
واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان پی ٹی ایم کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت باضابطہ طور پر کالعدم قرار دے چکی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے بھی حساس اور خفیہ شواہد کا جائزہ لینے کے بعد تنظیم پر عائد حکومتی پابندی کو برقرار رکھا تھا۔
ورلڈ سندھی کانگریس جیسی تنظیموں کے ساتھ پی ٹی ایم کے روابط پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دفاعی و سیاسی حلقے اسے پاکستان کی سلامتی اور سالمیت کے خلاف کام کرنے والے گروہوں کا نیا گٹھ جوڑ قرار دے رہے ہیں۔
تنظیم کے عسکریت پسندوں کے ساتھ مشتبہ تعلقات پر بھی متعدد سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ خالد زدران کی کتاب ’’15 منٹس‘‘ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ درجنوں طالبان جنگجو پشاور میں پی ٹی ایم کے اجتماع میں شریک ہوئے تھے، جبکہ کالعدم ٹی ٹی پی کی قیادت بھی منظور پشتین کی ستائش کر چکی ہے۔
بیرونِ ملک پی ٹی ایم کے رہنماؤں کو ملنے والی مبینہ مالی معاونت کے ذرائع بھی زیرِ بحث ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پی ٹی ایم یو کے کے ایک عہدیدار کے اکاؤنٹ میں مبینہ طور پر غیر ملکی فنڈنگ آئی، تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے دعوؤں کی مزید قانونی و آزادانہ تصدیق درکار ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کی سکیورٹی فورسز بالخصوص پشتون جوانوں نے انسدادِ دہشت گردی کے خلاف لازوال قربانیاں دی ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جہاں فورسز سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہیں، وہیں ایسی تنظیمیں بیرونِ ملک بیٹھ کر ریاست کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہیں۔
دیکھیے: پی ٹی آئی مارچ: پشاور کے تاجر سڑکوں پر، صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی