افغانستان کے صوبہ پنجشیر میں بین الاقوامی میں القاعدہ کے ارکان کی خفیہ موجودگی اور سرگرمیوں کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد افغان سرزمین کے دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے متعلق پاکستان کے دعوے ایک بار پھر سچ ثابت ہو گئے ہیں۔
کابل پوائنٹ نے معتبر مقامی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ عرب نژاد القاعدہ اہلکار پنجشیر کے مختلف حساس مقامات پر منظم انداز میں سرگرم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے ان غیر ملکی ارکان کی سرگرمیاں جنگلک، پرندہ، آبشار اور جیر علی جیسے اہم علاقوں میں دیکھی گئی ہیں۔ یہ افراد مقامی آبادی سے خود کو الگ تھلگ رکھتے ہوئے خفیہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ذرائع کا یہ بھی انکشاف ہے کہ کئی جنگجو اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ان پہاڑی علاقوں میں مقیم ہیں۔ ان کی مقامی افراد سے بات چیت اور میل جول انتہائی محدود رکھا جاتا ہے تاکہ شناخت پوشیدہ رہے۔
علاوہ ازیں، یہ عناصر پنجشیر اور صوبہ بغلان کے درمیانی راستوں پر بھی مسلسل نقل و حرکت کر رہے ہیں۔ ان راستوں میں نہرین اور اندراب کے سرحدی و پہاڑی علاقے شامل ہیں، جو دہشت گرد تنظیموں کی جغرافیائی توسیع کو ظاہر کرتے ہیں۔
پاکستان ایک طویل عرصے سے عالمی برادری اور حکومت کو خبردار کرتا رہا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ، ٹی ٹی پی اور دیگر کالعدم تنظیمیں کھلے عام یا خفیہ طور پر فعال ہیں۔
پنجشیر سے سامنے آنے والی ان نئی معلومات نے نہ صرف پاکستان کے سفارتی و سکیورٹی مؤقف کی توثیق کر دی ہے بلکہ طالبان حکومت کی جانب سے افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کے دعوؤں پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔