سوشل میڈیا پر خود ساختہ مبصرین کی جانب سے یمن کشیدگی کے تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کو متنازع بنانے کی منظم مہم بے نقاب ہو گئی ہے۔
عسکری و سفارتی امور کے ماہرین کے مطابق پاک سعودی دفاعی شراکت داری کو اسرائیل کی جنگ قرار دینا مکمل طور پر گمراہ کن، غیر منطقی اور حقائق کے برعکس ہے۔
کسی خودمختار ملک کا اپنے دیرینہ اتحادی کی سلامتی کا ساتھ دینا کسی تیسرے ملک کی پراکسی بننا ہرگز نہیں کہلاتا۔
تاریخی حقائق کے مطابق یمن میں سعودی کارروائی 2015 میں شروع ہوئی جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر کے ریاض کی جنوبی سرحدوں کو غیر مستحکم کیا۔ اس دفاعی اقدام کا اسرائیل سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
سعودی عرب طویل عرصے سے اپنی سرحدوں پر غیر ریاستی عناصر اور بیرونی اثر و رسوخ کے بڑھتے خطرات پر شدید تحفظات رکھتا ہے۔
غزہ جنگ کے دوران حوثیوں کے بحری حملوں اور باب المندب میں عالمی آمدورفت کی ناکہ بندی کے بعد سعودی عرب اپنی سرحدوں اور سمندری راستوں کا دفاع نظرانداز نہیں کر سکتا۔
پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اشتراک کئی دہائیوں پر محیط ہے، جس کا مقصد باہمی سلامتی اور حرمین شریفین کا تحفظ ہے، نہ کہ کوئی جارحانہ عزائم۔
پاکستان یمن اور سعودی عرب دونوں کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، جبکہ فلسطین کاز اور ناجائز اسرائیلی قبضے کے خلاف اسلام آباد کا مؤقف ہمیشہ غیر متزلزل رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سوشل میڈیا پر ثبوت کے بغیر اشتعال انگیز کہانیاں تراشنے والے محض سستی شہرت سمیٹ رہے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔