وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن ریاست کو یرغمال بنا کر مطالبات منوانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پی ٹی آئی ذاتی مفادات چھوڑ کر بات چیت کی میز پر آئے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک بار پھر وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے بقول، اس مقصد کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2014 سے شروع ہونے والی انتشار اور عدم برداشت کی سیاست ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ پی ٹی آئی کا ایجنڈا صرف سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ 4 اکتوبر سے جاری کوششوں کے باوجود عوام نے اس طرز عمل کو مسترد کیا اور تحریک انصاف صرف چند ہزار افراد ہی لا سکی۔
مشیر وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف فورسز، پولیس اور شہریوں کے لاشے گر رہے ہیں، دوسری طرف صوبائی حکومت اسلام آباد پر لشکر کشی کی تیاریاں کر رہی ہے۔ شہدا کے خون کے باوجود ایسی سیاست کسی صورت قابل قبول نہیں۔
افغان پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ افغان عبوری حکومت کو باور کرا دیا گیا ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے۔