برطانیہ کی ایک عدالت نے برسٹل میں 17 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں تین افغان شہریوں کو طویل قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔ واقعے کے بعد مجرموں نے فرانس فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔
برسٹل کراؤن کورٹ کے مطابق ملزمان میں 21 سالہ محراب صافی، 19 سالہ سلمان حبیب خیل، 19 سالہ اول احمد زئی اور ایک 17 سالہ نامعلوم لڑکا شامل تھے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ انہوں نے گزشتہ سال نومبر میں برسٹل کے ایک مکان میں لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
عدالتی کارروائی کے مطابق متاثرہ لڑکی کو اس مکان میں لا کر نشہ آور مشروب پلایا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ لڑکی کو جنسی استحصال کے مقصد کے تحت اس جگہ منتقل کیا گیا تھا، جہاں اسے کئی گھنٹوں تک نشانہ بنایا گیا۔
شواہد کے مطابق محراب صافی، اول احمد زئی اور سلمان حبیب خیل جرم کے بعد ایک مال بردار ٹرک کے ذریعے فرانس فرار ہو گئے تھے۔ بعد ازاں فرانسیسی حکام نے تینوں کو کیلے کے مقام پر حراست میں لے کر برطانوی پولیس کے حوالے کیا۔
عدالت نے محراب صافی کو ریپ اور انسانی اسمگلنگ کے جرم میں 15 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے سلمان حبیب خیل کو 9 سال اور اول احمد زئی کو بھی 9 سال قید کا حکم دیا، جبکہ 17 سالہ مجرم کو 3 سال کے لیے حراستی مرکز بھیجنے کی سزا دی گئی۔
جج مائیکل کلم نے ریمارکس دیے کہ متاثرہ لڑکی بے بس اور غیر محفوظ حالت میں تھی، اور مجرموں نے اس کی کمزوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ عدالتی فیصلے کے بعد برطانوی حکام نے سنگین جرائم میں ملوث پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کے خلاف قانونی کارروائیوں کو مزید سخت کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔