پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج آخری آپشن ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کی سیاست سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو پہنچ رہا ہے۔
کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے انتہا پسندی کی سیاست جاری رکھی تو صوبائی حکومت میں بھی اس کا کردار باقی نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس طرزِ سیاست سے پی ٹی آئی کے کارکن بھی مایوس ہوں گے۔ ان کے بقول، لوگ پارٹی کو ووٹ تو دیتے رہیں گے، لیکن اس طرح حکومت بنانا ممکن نہیں ہوگا۔
انتخابی نتائج کا حوالہ
بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1988 میں ووٹ پیپلز پارٹی کو ملے، لیکن حکومت بنانے میں مشکلات پیش آئیں۔ 1990 میں بھی ووٹ ملنے کے باوجود پارٹی کو حکومت نہیں ملی۔
انہوں نے کہا کہ 1993 میں پیپلز پارٹی کو حکومت تو ملی، لیکن پنجاب میں اقتدار حاصل نہیں ہوسکا۔ اسی طرح 2008 میں وفاق میں حکومت بنانے کے باوجود پنجاب میں حکومت پیپلز پارٹی کے حصے میں نہیں آئی۔
بلاول بھٹو زرداری کے بیان میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کو آخری آپشن قرار دیا گیا، جبکہ ان کی تنقید کا مرکز پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی اور انتہا پسندی کا طرزِ سیاست تھا۔