مولانا فضل الرحمٰن کی دیرینہ سیاسی روایت اور موجودہ طرزِ عمل کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ان کا سیاسی قبلہ ہمیشہ وقتی مفادات اور اقتدار کے گرد گھومتا رہا ہے۔ دہائیوں سے ایوانِ اقتدار اور اپوزیشن کے مختلف روپ بدلنے والے مولانا نے جمہوریت اور آئین کی پاسداری کا نام تو بارہا استعمال کیا، مگر ان کا ہر عمل اور سیاسی پینترا دراصل اپنی اہمیت کو قائم رکھنے اور اپنے سیاسی وزن کو اقتدار کی ترازو میں برقرار رکھنے کی ایک نہایت چالاک اور نپی تلی تدبیر ثابت ہوا ہے۔
ان کی سیاسی زندگی اس تلخ حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اصول پرستی اور نظریاتی وابستگی ان کے لیے محض تذکرے کی حد تک ہیں، جبکہ حقیقی مقصد ہمیشہ اقتدار کی راہداریوں تک رسائی ہی رہا ہے۔
تاریخی حقیقت یہ ہے کہ مولانا نے ہمیشہ اپنے ذاتی و جماعتی فائدے کی خاطر ہر دور کے حکمرانوں اور مختلف سیاسی دھڑوں کے ساتھ سمجھوتے کیے۔ جن پارٹیوں پر وہ کل تک کڑی تنقید کرتے تھے، مفاد کی گھڑی آتے ہی انہی کے ساتھ بغل گیر ہو کر اقتدار کا حصہ بننے میں انہوں نے کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔
لیکن جوں ہی ان کی فرمائشیں پوری ہونا بند ہوئیں یا ان کی خواہش کے مطابق منصب نہ مل سکا، تو انہوں نے فوری طور پر مظلومیت کا چولا اوڑھ کر انہی اتحادیوں پر بے وفائی اور دھوکے کا الزام تراشنا شروع کر دیا، جو کہ ان کی مصلحت پسندانہ سیاست کا ایک مستقل حصہ بن چکا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کے پے در پے لانگ مارچ، احتجاجی سڑکیں اور شعلہ بیانی بھی دراصل قوم کو درپیش مسائل کے حل کے لیے نہیں، بلکہ اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں سے اپنے مطالبات منوانے اور بارگیننگ کی طاقت بڑھانے کا ذریعہ رہی ہیں۔ سخت موسموں میں اپنے کارکنان کو اسلام آباد کے میدانوں میں لا کر بٹھانا اور پھر اپنے سیاسی اہداف حاصل ہوتے ہی یا سودا نہ بننے پر معترض ہو کر پیچھے ہٹ جانا، اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اور کارکنان کا جذبہ ان کے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے صرف ایک آلے کے طور پر استعمال ہوتا آیا ہے۔
اپنے حریفوں اور سابق اتحادیوں پر تنقید کرتے وقت مولانا اکثر و بیشتر وہ اخلاقی اور سیاسی حدود بھی عبور کر جاتے ہیں جن کے باعث مستقبل میں واپسی اور گفتگو کا راستہ باقی رہتا ہے۔ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ ان کا مذہبی و سیاسی اثر و رسوخ تمام طاقتوں کو بالآخر انہی کے در پر آنے پر مجبور کر دے گا، مگر اس بار بار کی قلابازیوں نے خود ان کے اپنے اعتبار کا شیشہ چٹخا دیا ہے۔
جب ہر سیاسی اتحاد کے پیچھے صرف اقتدار کا حصول چھپا ہو، تو پھر اتحادیوں سے شکوہ کرنا اور خود کو حق بجانب ٹھہرانا ایک کمزور اور بے بنیاد منطق بن کر رہ جاتا ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ سیاست میں لچک اور وقت کے ساتھ حکمتِ عملی بدلنا ایک حد تک تو درست سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اگر ہر موڑ پر صرف اپنے ذاتی فائدے کو مقدم رکھا جائے اور مفاد ختم ہوتے ہی دوستوں کو دشمن بنا لیا جائے، تو سیاست میں ساکھ ختم ہو جاتی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے اس رویے سے نہ صرف واپسی کی تمام چوکھٹیں خود اپنے ہاتھوں سے بند کی ہیں، بلکہ عوام کے سامنے بھی اپنی اصولی سیاست کا بھرم گنوا دیا ہے۔ اگر وہ اب بھی مفاد پرستی کا یہ طرزِ عمل ترک نہیں کرتے، تو تاریخ انہیں ایک ایسے سیاست دان کے طور پر یاد رکھے گی جس نے ہمیشہ اصولوں کو اقتدار پر قربان کیا۔





