دوحہ: پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے کے لیے ’بدر‘ کے نام سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔ ترک خبر رساں ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق دستخط کی تقریب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوئی۔
اس معاہدے کا مقصد چاروں ممالک کے درمیان فوجی پیداوار اور دفاعی صنعت میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس کے تحت مشترکہ منصوبوں، تحقیق اور تکنیکی تربیت پر توجہ دی جائے گی۔
وزرائے دفاع کے دستخط
مفاہمتی یادداشت پر قطر کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمٰن بن حسن آل ثانی، انڈونیشیا کے نائب وزیرِ دفاع یوسف جوہاری، پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف اور ترکیہ کے وزیرِ قومی دفاع یاشار گولر نے دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت چاروں ممالک اپنی دفاعی صنعتی صلاحیتوں سے مشترکہ طور پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ اس کے علاوہ فوجی پیداوار، تحقیق و ترقی اور تکنیکی و عسکری تربیت میں بھی تعاون کیا جائے گا۔
Millî Savunma Bakanı Yaşar Güler’in Katar ziyareti sırasında Türkiye, Katar, Pakistan ve Endonezya arasında Bedir Mutabakat Zaptı imzalandı.
— T.C. Millî Savunma Bakanlığı (@tcsavunma) October 21, 2026
Mutabakat Zaptı'nı Millî Savunma Bakanı Yaşar Güler, Katar Başbakan Yardımcısı ve Savunma İşlerinden Sorumlu Devlet Bakanı Şeyh Saud bin… pic.twitter.com/tdwojQpfkV
دفاعی صنعت میں تعاون
بدر مفاہمتی یادداشت کا ایک اہم مقصد دفاعی صنعت میں مشترکہ سرگرمیوں کو وسعت دینا ہے۔ اس کے ذریعے چاروں ممالک اپنی تکنیکی مہارت اور پیداواری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
ترک خبر رساں ادارے کے مطابق اس تعاون سے دفاعی صنعتی روابط مضبوط بنانے اور اتحادی و شراکت دار ممالک کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ شریک ممالک کے درمیان فوجی تعاون اور سلامتی کے شعبوں میں روابط بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
مکہ دفاعی معاہدہ
یہ مفاہمتی یادداشت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے الگ ہے۔ آذربائیجان آذرنیوز کے مطابق تینوں ممالک نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
بدر کا دائرہ بنیادی طور پر دفاعی صنعت، فوجی پیداوار، تحقیق و ترقی اور تکنیکی تربیت میں تعاون پر مشتمل ہے۔ اس میں قطر اور انڈونیشیا بھی شامل ہیں۔
معاہدے کے ذریعے چاروں ممالک دفاعی صنعت میں اپنے روابط کو مزید وسعت دینے اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے کی کوشش کریں گے۔





