ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر بیرونی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش کر دیا گیا ہے۔ معاہدے کے مسودے میں دفاع، دفاعی صنعت اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کی شقیں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس شق کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کی مدت کیا ہوگی؟
معاہدے کے مسودے کے مطابق اتحاد مستقل نوعیت کا ہوگا۔ کوئی بھی فریق ابتدائی 10 سال تک معاہدے سے الگ نہیں ہو سکے گا۔
تاہم، ابتدائی مدت مکمل ہونے کے بعد کوئی بھی ملک علیحدگی اختیار کر سکے گا۔ اس کے لیے کم از کم تین ماہ پہلے تحریری نوٹس دینا ہوگا۔
معاہدے میں دفاع، دفاعی صنعت اور سلامتی کے شعبوں میں قریبی تعاون کی شقیں بھی شامل ہیں۔ فریقین معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی خفیہ معلومات اور دستاویزات کی رازداری برقرار رکھنے کے پابند ہوں گے۔
مسودے کے مطابق یہ معلومات اور دستاویزات تینوں فریقوں کے علاوہ کسی دوسری ریاست، کمپنی یا شخص کے ساتھ شیئر نہیں کی جا سکیں گی۔ اس کے ساتھ متعلقہ ممالک کے قومی قوانین کی پابندی بھی لازم ہوگی۔
بل ترک پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کے بعد معاہدے کی توثیق کا پارلیمانی عمل اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ تاہم، فراہم کردہ رپورٹ میں بل پر پارلیمنٹ کے حتمی فیصلے کی تفصیل شامل نہیں ہے۔





