اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معزو کے درمیان اہم ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کی خوشی بھی منائی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے پانی کے حقوق پر ملک کا قطعی اور واضح موقف پیش کرتے ہوئے پانی کو پاکستان کی ریڈ لائن قرار دیا۔ انہوں نے واضح طور پر خبردار کیا کہ پاکستان کے پانی کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔
پانی کی سیکیورٹی کے اس اہم انتباہ کا مالدیپی صدر کی موجودگی میں اعلان اس معاملے کو صرف دو طرفہ تنازع سے اٹھا کر علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرتا ہے۔ اس اقدام سے عالمی برادری کی توجہ آبی تحفظ کے تحفظات پر مبذول ہوتی ہے۔
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے اور انتہائی اہم ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی روکنے پر پاکستان نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس صورتحال سے پاکستان کی زراعت، خوراک کی سیکیورٹی اور عوام کے روزگار کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
مالدیپ کے صدر کے ساتھ اس بیان کا اجرا پاکستان کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری، معاہدوں کی پابندی اور پانی کی منصفانہ تقسیم کے اصولوں پر عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنے کا بہترین سفارتی موقع فراہم کرتا ہے۔
صدر معزو کی موجودگی نے پاکستان کو یہ پلیٹ فارم دیا کہ وہ چھوٹے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک کے لیے بین السرحدی آبی تنازعات کے بھیانک اثرات اور خطرات کو عالمی سطح پر واضح کر سکے۔
پانی کو ریڈ لائن قرار دے کر پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ بھارت کا ایکطرفہ رویہ اور ڈیٹا چھپانے کا اقدام محض دو طرفہ معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس پر بین الاقوامی نگرانی، معاہدوں کی عملداری اور ذمہ دارانہ آبی نظم و ضبط انتہائی ضروری ہے۔





