امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تیاریوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال سب کے سامنے ہے اور کراچی میں 10 کلو آٹا 2 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے نیو کراچی میں شیخ سعدی اسکول کی تزئین و آرائش کے بعد افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی ٹیکس کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔ ان کے مطابق آج ملک بھر میں 150 مقامات پر پیٹرولیم ٹیکس کے خلاف احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے عوام پر لیوی ٹیکس نافذ کر رکھا ہے، جسے وہ بھتہ ٹیکس قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں تقریباً ڈھائی کروڑ افراد موٹرسائیکل استعمال کرتے ہیں، اس لیے حکومت کو پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں کمی سے عوام کو معاشی مشکلات سے کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ انہوں نے گیس کی لوڈشیڈنگ پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث گھریلو خواتین کو مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں (آئی پی پیز) کا معاملہ کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
کراچی میں ترقیاتی کام
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے زیر انتظام ٹاؤنز میں ترقیاتی کام جاری ہیں اور ان کے ٹاؤن چیئرمین دستیاب اختیارات سے بڑھ کر کام کر رہے ہیں۔ تاہم، ان کے بقول میئر کراچی نے اختیارات روک رکھے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی کے عوام نے جماعت اسلامی کو ووٹ دیے، لیکن اسٹیبلشمنٹ نے ان کا مینڈیٹ چوری کرکے میئر کو مسلط کیا۔
امیر جماعت اسلامی نے کے فور منصوبے میں تاخیر اور زمینوں پر قبضوں پر بھی تنقید کی۔ ان کا الزام تھا کہ صوبائی حکومت کی سرپرستی میں زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے لیے تیاری کی جا رہی ہے۔





