"> افغانستان امداد میں اربوں ڈالر غائب: کابل انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ

افغان امداد میں 8 ارب ڈالر کی ہیرا پھیری، کابل انسٹیٹیوٹ نے طالبان دور کی رپورٹ جاری

کابل انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 سال میں افغانستان کے لیے ملنے والی 8 ارب ڈالر کی امداد کا 91 فیصد حصہ غائب ہے، جس کی تفصیلات عوامی ریکارڈ میں موجود نہیں۔
افغانستان امداد میں اربوں ڈالر غائب: کابل انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ

کابل انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے زیرِ تسلط افغانستان کو ملنے والی 8 ارب ڈالر امداد کا 91 فیصد حصہ غائب ہے، جس کی شفافیت پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔

October 23, 2026

افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بین الاقوامی اداروں کی طرف سے فراہم کردہ امداد پر کابل انسٹیٹیوٹ نے ایک تفصیلی اور چشم کشا رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اربوں ڈالر کی خطیر رقم جاری ہونے کے باوجود اس کا بڑا حصہ کہاں گیا، اس کا کوئی ریکارڈ عوامی سطح پر موجود نہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 سال کے دوران مختلف بین الاقوامی اداروں کے توسط سے افغانستان کے لیے مجموعی طور پر 8 ارب ڈالر کی انسانی امداد دی گئی۔ اس امداد کو فراہم کرنے والے سرِفہرست ڈونر ممالک میں امریکہ، برطانیہ اور جرمنی کے نام سرفہرست ہیں۔

رپورٹ کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ فراہم کردہ 8 ارب ڈالرز میں سے صرف 2 کروڑ 19 لاکھ ڈالرز کے بارے میں پتا چل سکا ہے کہ وہ کس دوسرے وصول کنندہ ادارے کو منتقل ہوئے۔ اس طرح کل امداد کے 91 فیصد حصے کی منتقلی اور استعمال کا کوئی سراغ یا عوامی ریکارڈ موجود نہیں۔

رپورٹ کے مطابق 1.42 ارب ڈالرز کی 316 ادائیگیوں کے سامنے وصول کنندہ کا اصل نام درج کرنے کی بجائے صرف خفیہ کا لفظ لکھ دیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے افغانستان کے لیے آنے والی امداد کے شفاف نظام پر انتہائی سنجیدہ سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

انسانی امداد کے علاوہ، بین الاقوامی ترقیاتی اداروں نے 1208 پراجیکٹس کے لیے 12 ارب ڈالرز فراہم کرنے کے وعدے (کمٹمنٹس) کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام رقوم طالبان رجیم کو براہِ راست ملنے والی اربوں ڈالرز کی گرانٹس کے علاوہ ہیں۔

ماہرین کے مطابق اربوں ڈالرز کے عطیات اور فنڈز کے دعوؤں کے باوجود زمینی حقائق یہ ہیں کہ افغان عوام آج بھی شدید غربت کی چکی میں پس رہی ہے۔ فنڈز کی عدم شفافیت کی وجہ سے عام شہریوں تک امداد نہ پہنچنے کے باعث لاکھوں لوگ مجبوراََ دوسرے ممالک کی غیر قانونی ہجرت کی راہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔

متعلقہ مضامین

افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے اسماعیلی برادری کے 34 جماعت خانے بند اور شیعہ امام بارگاہ پر قبضہ کرنے کے بعد مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور آزادی پر شدید قدغنیں عائد ہو چکی ہیں۔

October 23, 2026

گجرات میں بیرون ملک سے آنے والے شخص پر بھائی کے قتل کا الزام ہے۔ پولیس نے پانچ روز میں ملزم کو گرفتار کر لیا۔

October 23, 2026

لسبیلہ میں مسافر بس اور وین کے تصادم میں 12 افراد جاں بحق اور 15 سے زائد زخمی ہوگئے، پولیس نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دیں۔

October 23, 2026

حافظ آباد کے علاقے کولو تارڑ میں زمین کے تنازع پر دو افراد کے قتل کے الزام میں دو بھائیوں اور ان کی والدہ کو گرفتار کر لیا گیا۔

October 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *