افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ صوبوں بدخشان اور تخار میں اسماعیلی برادری کے 34 جماعت خانے بند کر دیے گئے ہیں، جس سے کمیونٹی میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ مذہبی مقامات کی بندش سے اقلیتوں کے عبادت کے بنیادی حق پر قدغن لگی ہے۔
دارالحکومت کابل میں ایک شیعہ امام بارگاہ پر قبضہ کر کے اسے مدرسے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اور پیروکاروں کو وہاں عبادت سے روک دیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ پر پابندیاں ان امتیازی اقدامات کو چھپانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
فرقہ وارانہ بے چینی پر قابو پانے کے لیے نائب وزیر دفاع عبد القیوم ذاکر کو خصوصی آپریشنز کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے، جو حکومت کے سخت گیر رویے کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق طالبان کا نظریاتی طرزِ فکر مذہبی آزادی کو متاثر کر رہا ہے، جس سے فرقہ وارانہ تقسیم گہری اور اقلیتوں کے لیے محرومی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔





