خیبرپختونخوا میں طویل عرصے سے جاری سیاسی چپقلش، نعرے بازی اور خراب گورننس کے بعد اب صوبے کی فضا میں بہتری اور اصلاحات کی امیدیں جاگ اٹھی ہیں۔ 22 اکتوبر 2026 کی ایک چشم کشا رپورٹ نے صوبے کے انتظامی ڈھانچے کی اندرونی کہانی کو بے نقاب کر دیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نعروں کی سیاست کے پیچھے کس طرح سرکاری وسائل کا استحصال اور سیاسی سفارشی کلچر پروان چڑھ رہا تھا۔
سوات میں سامنے آنے والے حالیہ انتظامی اقدامات اور کرپشن کے خلاف کارروائیاں اس بات کا غماز ہیں کہ صوبائی نظام کو کس طرح ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کو افراتفری، احتجاجی سیاست اور سیاسی بنیادوں پر چلنے والے نظام سے آزاد کر کے حقیقی ترقی، امن اور میرٹ کی راہ پر گامزن کیا جائے۔
تبدیلی کے دعوے اور حقائق
تبدیلی اور انقلاب کے بلند و بانگ دعوے کرنے والوں کے دور میں صوبے کے سرکاری محکموں کا جو حشر کیا گیا، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق سوات میں 400 سے زائد ملازمین برسوں تک دفاتر سے مبینہ طور پر غیرحاضر رہنے کے باوجود تنخواہیں بٹورتے رہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انتظامیہ پر سیاسی دباؤ کس قدر شدید تھا۔
اس کے علاوہ سرکاری بنگلوں پر قبضے اور سیاسی بنیادوں پر پٹواریوں کی من پسند پوسٹنگز جیسے سیکنڈلز نے نام نہاد تبدیلی کے نعروں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ روزِ اول سے شفافیت اور گڈ گورننس کے نام پر دوسروں پر انگلیاں اٹھاتے رہے، وہ اپنے دورِ حکومت میں اس بدترین انتظامی زوال کا حساب دینے سے کیوں گریزاں ہیں؟
عوامی املاک یا سیاسی جاگیر؟
کسی بھی فلاحی ریاست میں سرکاری محکمے اور ادارے کسی سیاسی جماعت یا گروہ کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت ہوتے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں طویل عرصے تک سرکاری ملازمین کی غیرحاضری، سرکاری املاک کی لوٹ مار اور سیاسی سفارش کلچر کو جس طرح نظر انداز کیا گیا، اس نے صوبے کے غریب عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔
جب بھی ان سنگین بے ضابطگیوں پر آواز اٹھائی گئی، اسے فوری طور پر سیاسی انتقام کا نام دے کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ احتساب کا ترازو سب کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے۔ قانون کی بالادستی صرف نعروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے، ورنہ اسے دوہرا معیار اور عوام کے ساتھ کھلا دھوکہ ہی کہا جائے گا۔
نئی امید
صوبے میں احتجاجی سیاست، دھرنوں اور مسلسل الزام تراشی نے خیبرپختونخوا کے عوام کو ترقی کے عمل سے کوسوں دور کر دیا تھا۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ نعرے بازی اور انتشار کی سیاست کو دفن کر کے امن، میرٹ، بہتر گورننس اور عوامی وسائل کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔ عوام اب مزید کھوکھلے وعدوں اور جھوٹے جذباتی نعروں کے فریب میں آنے کے لیے تیار نہیں ہیں؛ انہیں سیاسی وفاداریوں کے بجائے عملی نتائج اور کارکردگی درکار ہے۔
پی ٹی آئی کی سیاست اور مبینہ لوٹ مار کے شکنجے سے صوبے کی جان چھوٹنے کے بعد اب خیبرپختونخوا کی تقدیر کا فیصلہ نعروں سے نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، شفاف گورننس اور حقیقی فلاحی منصوبوں سے ہوگا۔
خلاصہ یہ کہ خیبرپختونخوا کی ترقی کا سفر اب رکنے والا نہیں ہے۔ صوبے کے باشعور عوام اب اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ انتشار اور دھرنے ترقی کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامی امور میں سیاسی مداخلت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جائے، میرٹ کو بحال کیا جائے اور کرپشن میں ملوث عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے تاکہ خیبرپختونخوا ایک بار پھر ترقی، خوشحالی اور امن کا گہوارہ بن سکے۔





