"> یومِ تاسیسِ آزاد کشمیر: تحریکِ آزادی اور الحاقِ پاکستان کا تجدیدِ عزم
مولانا فضل الرحمان کی سیاست

مولانا کا طرزِ سیاست

دین کے نام پر سیاست اور اقتدار ملتے ہی خاندانی نوازشات؟ جانیے مولانا فضل الرحمن کی خاندانی سیاست، وزارتِ مواصلات میں کرپشن اور کارکنوں کی محرومی کا پورا سچ۔

یومِ تاسیس آزاد جموں و کشمیر؛ تحریکِ آزادی اور نظریہ الحاقِ پاکستان کی تجدید

چوبیس اکتوبر 1947ء کو قائم ہونے والی آزاد کشمیر کی عارضی حکومت حقِ خودارادیت اور تحریکِ آزادیِ کشمیر کے لیے ایک مضبوط سیاسی و انتظامی بنیاد ثابت ہوئی۔
یومِ تاسیسِ آزاد کشمیر: تحریکِ آزادی اور الحاقِ پاکستان کا تجدیدِ عزم

آزاد جموں و کشمیر کا یومِ تاسیس تحریکِ آزادی اور نظریہ الحاقِ پاکستان کے تجدیدِ عزم کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ پڑھیے اداریہ اور مکمل تفصیلات۔

October 24, 2026

چوبیس اکتوبر 1947 محض تاریخ کا ایک ورق نہیں، بلکہ کشمیری عوام کی غیرت، حریت اور نظریاتی سچائی کا وہ درخشندہ باب ہے جس نے ڈوگرہ استبداد کے تاریک سایوں کو چاک کر کے آزادی کی ایک نئی صبح کی بنیاد رکھی۔ آج جب آزاد جموں و کشمیر اپنا 79 واں یومِ تاسیس منا رہا ہے، تو یہ دن صرف ایک تاریخی واقعے کی یاد دہانی نہیں، بلکہ تجدیدِ عزم، پاسداریٔ شہداء اور نظریۂ الحاقِ پاکستان کے ساتھ اسی فولادی وابستگی کو دہرانے کا نام ہے جس کی شمع کشمیریوں نے اپنے خونِ جگر سے روشن کر رکھی ہے۔

تحریکِ آزادیِ کشمیر کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو 19 جولائی 1947ء کی قراردادِ الحاقِ پاکستان وہ بنیادی سنگِ میل تھی جس نے کشمیری عوام کی منزل کا تعیّن کیا۔ یہ محض ایک سیاسی دستاویز نہیں تھی، بلکہ بانیانِ پاکستان کے 2 قومی نظریے اور کشمیریوں کے جذباتی و جغرافیائی رشتے کا دوٹوک اعلان تھا۔

جب جابر ڈوگرہ راج نے عوام کے اس مسلمہ حق کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کی، تو غیور کشمیریوں نے بے مثال مزاحمت کی تاریخ رقم کی، جس کے نتیجے میں غازیِ ملّت سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں آزاد جموں و کشمیر کی عارضی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔

یہ انقلابی پیش رفت اس بات کا ثبوت تھی کہ کشمیری قوم نہ صرف آزادی کی جنگ لڑنا جانتی ہے، بلکہ اپنے خطے کا نظم و نسق سنبھالنے اور ایک منظم انتظامی و سیاسی مرکز قائم کرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کا قیام دراصل اس بات کا اعلان تھا کہ مقبوضہ وادی کا مستقبل کسی غاصب کے فیصلے کا مرہونِ منت نہیں ہو سکتا۔

آج، 79 سال بعد بھی، جہاں آزاد کشمیر کا خطہ آزادی، امن اور ترقی کا مژدہ سنا رہا ہے، وہاں مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی بربریت، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور کشمیریوں کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کی مذموم کوششیں عالمی برادری کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہیں۔

پانچ اگست 2019ء کے یکطرفہ بھارتی اقدامات نے وادی کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے، لیکن اس تمام تر جابرانہ رویے کے باوجود کشمیری عوام کے جذبۂ حریت کو متزلزل نہیں کیا جا سکا۔

یومِ تاسیسِ آزاد کشمیر عالمی برادری اور امتِ مسلمہ دونوں کو ایک اہم پیغام دیتا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی برادری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں، بلکہ لاکھوں انسانوں کے بنیادی حقِ خودارادیت کا معاملہ ہے۔ کشمیریوں کی بے شمار قربانیاں آج بھی عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں کہ وہ اقوامِ متحدہ کی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق اس دیرینہ مسئلے کا حل ممکن بنائے۔

دوسری طرف، آزاد کشمیر کی حکومت اور عوام کے ساتھ ساتھ تمام امتِ مسلمہ اور بالخصوص پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کا مقدمہ عالمی سطح پر مزید مؤثر، منظم اور فعال انداز میں پیش کریں۔ آزاد جموں و کشمیر کو سیاسی و سفارتی طور پر تحریکِ آزادی کا حقیقی قلعہ بنا کر آگے بڑھنا ہوگا۔

چوبیس اکتوبر کا دن ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ آزادی کی جدوجہد قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے۔ مقبوضہ وادی میں بہنے والا شہداء کا خون اور آزاد کشمیر کی سرزمین کا قیام، ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب نظریات پختہ ہوں اور عزم غیر متزلزل ہو، تو وقت کے جابر ترین حکمران بھی حق کی آواز کو نہیں دبا سکتے۔ کشمیریوں کی منزل صرف اور صرف حقِ خودارادیت ہے، اور ان شاء اللہ آزادی کی یہ شمعِ امید ایک دن مکمل فتح پر منتج ہوگی۔

متعلقہ مضامین

اروناچل پردیش میں چین اور بھارت کے فوجیوں کے درمیان مبینہ ٹکراؤ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بھارتی اپوزیشن نے وزیراعظم مودی سے سرحدی صورتحال پر وضاحت مانگ لی۔

October 24, 2026

سندھ حکومت نے میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی، جس میں آئی ایس آئی، آئی بی، رینجرز سندھ اور این سی سی آئی اے کے نمائندے شامل ہوں گے۔

October 24, 2026

سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کے پاکستان مخالف بیانات دراصل ان کے اپنے ناکام طالبان معاہدے اور تباہ شدہ سفارتی کیریئر کو بچانے کی ایک کوشش ہیں۔

October 24, 2026

افغانستان کے 7 صوبوں میں مختلف مزاحمتی گروہوں کی 10 کارروائیوں میں طالبان کے 13 اہلکار ہلاک اور متعدد فوجی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔

October 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *