پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں مسلسل پانچ ہفتوں کے دوران نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں حملوں میں مجموعی طور پر تقریباً 66 فیصد کمی ہوئی۔
رپورٹ میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو اس صورت حال کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔
پی آئی سی ایس ایس کے مطابق 16 سے 22 اکتوبر کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 38 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اسی عرصے میں دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد بھی کم ہوئی۔ گزشتہ ہفتے زخمیوں کی تعداد 20 تھی، جو کم ہو کر 11 رہ گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں کے دوران 33 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا۔ یہ کارروائیاں 10 آپریشنز کے دوران کی گئیں۔
پی آئی سی ایس ایس کی رپورٹ میں فتنہ الہندوستان میں قیادت کے تنازع اور فتنہ الخوارج کی جانب سے پروپیگنڈے کی حکمت عملی میں تبدیلی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان عوامل اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے تناظر میں ملک میں دہشت گردی کی صورت حال میں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔
پی ٹی آئی دور
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے 13 سالہ دورِ حکومت کے باوجود دہشت گردی ایک سنگین مسئلہ بنی رہی، تاہم پکس کی رپورٹ کے مطابق گورنر راج کے دوران پانچ ہفتوں میں دہشت گرد حملوں میں 66 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اس پیش رفت کو صوبے میں امن کی بحالی کی امید قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پی ٹی آئی پر تنقید کی جا رہی ہے کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود وہ دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام رہی۔ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا کو سیاسی جلسوں اور مارچوں کے بجائے امن و امان کی بہتری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔





