پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مولانا فضل الرحمان ایک ایسی شخصیت ہیں جو کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ لیکن اگر ان کی سیاست کی گہرائی اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے تناظر میں، تو ایک انتہائی مایوس کن تصویر سامنے آتی ہے۔ دہائیوں پر محیط پارلیمانی سیاست، بار بار اقتدار کی راہداریوں تک رسائی، اور صوبائی و وفاقی حکومتوں میں مضبوط شراکت داری کے باوجود، ان کے اپنے انتخابی حلقے اور خطے آج بھی بنیادی سہولیات اور ترقی کے لیے ترستے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تضاد اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ان کی سیاست کا اصل مقصد عوامی فلاح کے بجائے صرف اقتدار کا حصول اور اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام نے متعدد بار جمعیت علمائے اسلام (ف) پر اعتماد کا اظہار کیا اور انہیں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا۔ چاہے 2002 کے متحدہ مجلس عمل کے دورِ حکومت میں خیبر پختونخوا کی وزاتِ اعلیٰ کا قلمدان ہو، یا بلوچستان میں مختلف ادوار کے دوران اقتدار کی اتحادی شراکت، مولانا اور ان کی جماعت کو اپنے خطوں کے مقدر کو بدلنے کے بے شمار مواقع ملے۔
لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اتنے طویل عرصے اور وسیع اختیارات کے باوجود ان دونوں صوبوں میں کوئی ایسا پائیدار یا انقلابی منصوبہ سامنے نہ آ سکا جو وہاں کے غریب اور پسماندہ عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکتا۔
اگر تعلیمی اور صحتی ڈھانچے کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال انتہائی تشویشناک نظر آتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے اپنے آبائی علاقوں اور جے یو آئی (ف) کے مضبوط سیاسی گڑھ سمجھے جانے والے اضلاع میں آج بھی معیاری اسکولوں، کالجوں اور جدید ہسپتالوں کا شدواُد سے فقدان ہے۔ جو ہسپتال اور تعلیمی ادارے موجود ہیں، وہ زبوں حالی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا رونا رو رہے ہیں۔
وہ خطے جو کبھی علم اور تہذیب کے مراکز بن سکتے تھے، دہائیوں کی مولانا کی سیاست کے بعد بھی پسماندگی اور جہالت کے اندھیروں میں دھکیلے ہوئے ہیں۔ اپنے جلسوں اور خطبات میں بڑی بڑی باتیں کرنے والے رہنما نے کبھی اپنے ہی عوام کو معیاری تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے پر کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی۔
معاشی ترقی اور روزگار کے شعبے میں مولانا کی کارکردگی اور بھی زیادہ سوالیہ نشان ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے لاکھوں باصلاحیت اور محنت کش نوجوان آج بھی روزگار کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
ان کے ادوارِ اقتدار میں نہ تو کوئی بڑا صنعتی زون قائم کیا گیا، نہ ہی انفراسٹرکچر کی ایسی بنیاد رکھی گئی جس سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے۔ معاشی پالیسیوں، تکنیکی اصلاحات اور جدید دور کے چیلنجز سے مکمل لا علمی اور بے نیازی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان علاقوں کی معیشت جمود کا شکار رہی اور مقامی نوجوانوں کو نقل مکانی یا انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑا۔
اس تمام تر ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ان کا ترجیحی محور ہے۔ مولانا کی تمام تر سیاسی توانائی ہمیشہ اسلام آباد کے اقتدار کی شطرنج پر مہرے ہلانے، حکومتوں کو گرانے یا بچانے کے لیے جوڑ توڑ کرنے، اور اہم وزارتوں کے قلمدان حاصل کرنے پر صرف ہوئی۔
جب حکومت میں شامل ہونے کا موقع ملا تو عوامی فلاح و بہبود کی فائلیں دفتری دھول کی نذر ہو گئیں، اور جب اپوزیشن میں آئے تو مذہب اور آئین کے دفاع کے نعروں کے پیچھے اپنی سیاسی ناکامیوں کو چھپایا گیا۔ عوام کے بنیادی مسائل یعنی پینے کا صاف پانی، پکی سڑکیں، بجلی اور روزگار ہمیشہ ان کی ترجیحات میں سب سے نیچے رہے۔
یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ان صوبوں کے عوام اب اس روایتی اور مفاد پرستانہ سیاست کا سچائی سے محاسبہ کریں۔ مذہبی جذباتی نعروں اور اقتدار کی کرسیوں کی کھیل میں دہائیوں سے پسنے والے عوام کو اب یہ سوال کرنا ہو گا کہ ان کی حمایت کے بدلے انہیں کیا ملا؟
مولانا فضل الرحمان کی سیاست نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی بجائے پسماندگی کے ایک ایسے دائرے میں دھکیل دیا ہے جس سے نکلنے کے لیے روایتی چہروں اور ناکام پالیسیوں سے نجات حاصل کرنا اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔





