"> افغان سرزمین پاکستان مخالف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، پاکستان

افغان طالبان ٹی ٹی پی، بی ایل اے جیسے گروہوں کی معاونت ختم کریں: پاکستان

پاکستان نے افغان طالبان سے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ گروہوں کی معاونت ختم کرنے اور افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشت گردی روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
افغان سرزمین پاکستان مخالف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، پاکستان

پاکستان نے افغان طالبان سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی معاونت ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور سرحد پار دراندازی روکنے پر زور دیا ہے۔

October 25, 2026

پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ان سے وابستہ گروہوں کی معاونت ختم کرے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی خدشات کا جواب الزام تراشی سے نہیں دیا جا سکتا۔ ان خدشات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں۔

وزارت کے مطابق پاکستان کے خدشات محض قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں بلکہ بین الاقوامی رپورٹس اور دستاویزی شواہد سے متعلق ہیں۔ بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا۔

بیان میں امریکی لیڈ انسپکٹر جنرل کی جنوری سے مارچ 2026 کے دوران آپریشن اینڈیورنگ سینٹینل سے متعلق رپورٹ کا بھی ذکر کیا گیا، جو امریکی کانگریس میں پیش کی گئی تھی۔

وزارت اطلاعات کے مطابق اس رپورٹ میں کہا گیا کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت دیتے رہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد چار سے چھ ہزار کے درمیان بتائی گئی ہے۔

وزارت نے کہا کہ یہ رپورٹس افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور معاون نیٹ ورکس سے متعلق پاکستان کے خدشات کی سنگینی ظاہر کرتی ہیں۔

بیان میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوششوں، انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے دوران افغان شہریوں اور دہشت گرد گروہوں کے ارکان کی ہلاکتوں اور دہشت گردوں سے غیر ملکی ساختہ اسلحے کی برآمدگی کا بھی ذکر کیا گیا۔ وزارت کے مطابق ان معاملات کی سنجیدہ جانچ پڑتال ضروری ہے۔

پاکستان نے قندھار میں تعینات حکام سمیت افغان طالبان کے بعض حکام پر دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سہولت کاری کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی۔ وزارت نے کہا کہ ان خدشات کو محض تردید سے مسترد کرنے کے بجائے قابلِ اعتماد وضاحت اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں۔

وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان کے سکیورٹی اقدامات کا ہدف دہشت گردی کے خطرات ہیں، افغان عوام نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کا امن و استحکام ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور دہشت گردی سے پاک خطہ دونوں ملکوں کے عوام کے مفاد میں ہے۔

پاکستان نے کہا کہ وہ اپنے شہریوں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ تاہم، وزارت کے مطابق اسلام آباد باہمی احترام، قابلِ تصدیق یقین دہانیوں اور سرحد پار دراندازی روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ بات چیت کے لیے بھی تیار ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے افغان طالبان حکومت کو پاکستان کے سکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

نائیجیریا کی ریاست ترابا کے بناری گاؤں پر مسلح حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے۔ حملہ آوروں نے فائرنگ کے ساتھ دکانوں سے خوراک بھی لوٹ لی۔

October 25, 2026

کوٹھیان کے قریب غیر ذمہ دارانہ فائرنگ سے نوجوان زخمی ہو گیا، جس کا ملبہ ایکشن کمیٹی نے سیکیورٹی اداروں پر ڈالنے کی ناکام کوشش کی

October 25, 2026

فرانس میں مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے خلاف 4 لاکھ 10 ہزار افراد کے مظاہرے، پیرس اور مارسیے میں پولیس سے جھڑپیں اور لوٹ مار کے واقعات۔

October 25, 2026

بلومبرگ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اور اسرائیل میں انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں، تاہم یہ فی الحال ایک امکان اور رپورٹ کا دعویٰ ہے۔

October 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *