پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ان سے وابستہ گروہوں کی معاونت ختم کرے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی خدشات کا جواب الزام تراشی سے نہیں دیا جا سکتا۔ ان خدشات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں۔
وزارت کے مطابق پاکستان کے خدشات محض قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں بلکہ بین الاقوامی رپورٹس اور دستاویزی شواہد سے متعلق ہیں۔ بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا۔
بیان میں امریکی لیڈ انسپکٹر جنرل کی جنوری سے مارچ 2026 کے دوران آپریشن اینڈیورنگ سینٹینل سے متعلق رپورٹ کا بھی ذکر کیا گیا، جو امریکی کانگریس میں پیش کی گئی تھی۔
وزارت اطلاعات کے مطابق اس رپورٹ میں کہا گیا کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت دیتے رہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد چار سے چھ ہزار کے درمیان بتائی گئی ہے۔
وزارت نے کہا کہ یہ رپورٹس افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور معاون نیٹ ورکس سے متعلق پاکستان کے خدشات کی سنگینی ظاہر کرتی ہیں۔
بیان میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوششوں، انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے دوران افغان شہریوں اور دہشت گرد گروہوں کے ارکان کی ہلاکتوں اور دہشت گردوں سے غیر ملکی ساختہ اسلحے کی برآمدگی کا بھی ذکر کیا گیا۔ وزارت کے مطابق ان معاملات کی سنجیدہ جانچ پڑتال ضروری ہے۔
پاکستان نے قندھار میں تعینات حکام سمیت افغان طالبان کے بعض حکام پر دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سہولت کاری کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی۔ وزارت نے کہا کہ ان خدشات کو محض تردید سے مسترد کرنے کے بجائے قابلِ اعتماد وضاحت اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں۔
وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان کے سکیورٹی اقدامات کا ہدف دہشت گردی کے خطرات ہیں، افغان عوام نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کا امن و استحکام ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور دہشت گردی سے پاک خطہ دونوں ملکوں کے عوام کے مفاد میں ہے۔
پاکستان نے کہا کہ وہ اپنے شہریوں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ تاہم، وزارت کے مطابق اسلام آباد باہمی احترام، قابلِ تصدیق یقین دہانیوں اور سرحد پار دراندازی روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ بات چیت کے لیے بھی تیار ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے افغان طالبان حکومت کو پاکستان کے سکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔





