"> نیتن یاہو کا حریف کون اور یہ مقابلہ اتنا اہم کیوں؟

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کا حریف کون اور یہ مقابلہ اتنا اہم کیوں؟

اسرائیل میں آج پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں۔ نیتن یاہو کا مقابلہ سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ سے ہے۔ جانیے یہ مقابلہ کتنا سخت ہے، مہم میں کون سے مسائل چھائے رہے اور عرب جماعتیں حکومت سازی میں کیسے فیصلہ کن ہو سکتی ہیں۔

اسرائیلی انتخابات 2026: نیتن یاہو اور گادی آئزنکوٹ کے درمیان سخت مقابلہ، بڑے مسائل، عرب جماعتوں کا کردار اور حکومت سازی کا امکان۔

October 27, 2026

اسرائیل میں آج یعنی 27 اکتوبر 2026 کو پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں۔ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد یہ پہلے عام انتخابات ہیں، اس لیے ان پر اسرائیل کے اندر ہی نہیں، پورے مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کی نظر ہے۔ اس حملے میں تقریباً 1,200 افراد مارے گئے اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد غزہ، لبنان اور ایران کے ساتھ جنگیں ہوئیں اور ملک تین سال سے جنگی حالت میں ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ ان انتخابات کو ایک ریفرنڈم کہہ رہے ہیں، یعنی اسرائیلی عوام یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو جاری رکھنا چاہتے ہیں یا تبدیلی چاہتے ہیں۔

سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ اسرائیل میں وزیرِ اعظم براہِ راست منتخب نہیں ہوتا۔ ووٹر پارلیمان کی 120 نشستوں کے لیے سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ جس جماعت یا اتحاد کے پاس کم از کم 61 نشستیں ہوں، یعنی آدھی سے زیادہ، وہ حکومت بنا سکتا ہے۔ کسی جماعت کو پارلیمان میں جگہ پانے کے لیے تقریباً 3.25 فیصد ووٹ، یعنی چار نشستیں، لینا ضروری ہے۔ عموماً کوئی ایک جماعت اکیلی اکثریت نہیں لیتی، اس لیے مختلف جماعتوں کو مل کر اتحادی حکومت بنانی پڑتی ہے۔ نتائج کے بعد صدر اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے پاس اکثریت ملنے کا زیادہ امکان ہو، اور اسے اتحاد بنانے کے لیے محدود وقت ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹی جماعتیں بھی بعض اوقات بہت اہم ہو جاتی ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ مقابلہ کس کے درمیان ہے۔ ایک طرف نیتن یاہو ہیں، جو اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیرِ اعظم رہنے والے رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی جماعت لیکود ہے۔ ان کے اتحاد میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں، مثلاً اتمار بن گویر کی جیوش پاور، اور مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔ دوسری طرف گادی آئزنکوٹ ہیں، جو اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ ہیں اور اپنی نئی جماعت یاشر کے ساتھ میدان میں ہیں۔ آئزنکوٹ کی عمر 66 سال ہے، اور غزہ کی لڑائی میں ان کا بیٹا اور دو بھتیجے مارے گئے، جس کی وجہ سے انہیں عوامی ہمدردی بھی ملی ہے۔ وہ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کا حصہ تھے، مگر جون 2024 میں مستعفی ہو گئے اور تب سے حکومت کے بڑے ناقد ہیں۔

ان دونوں کے علاوہ کچھ اور اہم نام بھی ہیں۔ نفتالی بینیٹ اور یائر لیپڈ کی جماعتیں مل کر ٹوگیدر کے نام سے لڑ رہی ہیں اور اپوزیشن کی تیسری بڑی قوت سمجھی جاتی ہیں۔ ایویگدور لیبرمین کی جماعت یسرائیل بیتینو اور یائر گولان کی ڈیموکریٹس بھی اپوزیشن کا حصہ ہیں۔ اس بار بہت سی نئی جماعتیں بھی بنی ہیں، جن میں اوفر وِنٹر کی مذہبی قوم پرست جماعت پیپل آف اسرائیل اور کچھ سابق وزرا کی جماعتیں شامل ہیں۔ یعنی ووٹ کئی حصوں میں بٹ سکتے ہیں، جس سے نتیجہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

مقابلہ کتنا سخت ہے، اس کا اندازہ آخری سروے سے ہوتا ہے۔ ٹی وی چینل کان 11 کے آخری جائزے کے مطابق آئزنکوٹ کی یاشر کو 22 نشستیں مل سکتی ہیں، لیکود کو 20 اور ٹوگیدر کو 14۔ مجموعی طور پر آئزنکوٹ کے حامی بلاک کو 52 اور نیتن یاہو کے بلاک کو 50 نشستیں ملتی دکھائی گئی ہیں۔ دوسرے جائزوں میں بھی دونوں طرف کے بلاک 49 سے 54 نشستوں کے درمیان بتائے گئے ہیں۔ یعنی کوئی بھی فریق 61 تک پہنچتا نظر نہیں آتا، اور پہلے کے مقابلے میں لیکود کی حمایت میں کمی اور نئی جماعتوں کا ابھرنا بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔ البتہ سروے آخری نتیجہ نہیں ہوتے، اصل تصویر ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

اس مہم میں کئی بڑے مسائل چھائے رہے۔ پہلا مسئلہ سات اکتوبر کے حملے کا احتساب ہے۔ بہت سے اسرائیلی چاہتے ہیں کہ ایک آزاد سرکاری کمیشن بنے جو یہ تحقیق کرے کہ ملک اتنے بڑے حملے کو کیوں نہ روک سکا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جیتنے پر یہ اس کی پہلی ترجیح ہوگی، جبکہ نیتن یاہو پر اس معاملے میں دباؤ ہے، اور قطر کے ساتھ ماضی کے معاملات پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ دوسرا مسئلہ سلامتی کی پالیسی ہے۔ اسرائیلی فوج اس وقت غزہ، جنوبی لبنان اور شام میں موجود ہے اور مغربی کنارے میں بھی تقریباً روزانہ کارروائیاں کر رہی ہے۔ ریزرو فوجیوں کو بار بار بلایا گیا ہے، جس سے ان کی ملازمتوں اور خاندانوں پر اثر پڑا ہے، اور فوجی قیادت افرادی قوت کی کمی کا ذکر کرتی رہی ہے۔

تیسرا بڑا مسئلہ انتہائی مذہبی یہودیوں، جنہیں حریدی کہا جاتا ہے، کو لازمی فوجی خدمت سے چھوٹ دینے کا ہے۔ جب باقی شہری جنگ میں لڑ رہے ہوں اور ایک طبقہ خدمت سے مستثنیٰ ہو تو ناراضی بڑھتی ہے۔ حکومت کے بعض سابق ووٹر بھی اسی وجہ سے اس بار سوچ میں پڑے ہوئے ہیں۔ چوتھا مسئلہ مہنگائی اور جنگی اخراجات کا بوجھ ہے، اور پانچواں عدلیہ کی آزادی کا تنازع ہے، جس پر جنگ سے پہلے ملک میں بڑے احتجاج ہوئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فلسطینی ریاست جیسا پرانا موضوع اس بار انتخابی مہم میں پیچھے چلا گیا ہے۔

عرب جماعتیں اس انتخاب کا ایک اہم پہلو ہیں۔ اسرائیل کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ عرب شہریوں پر مشتمل ہے اور ان کی جماعتوں کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ مل کر دس سے چودہ نشستیں لے سکتی ہیں۔ اگر نیتن یاہو اور آئزنکوٹ، دونوں کے بلاک 61 تک نہ پہنچ سکے تو یہ نشستیں فیصلہ کن بن سکتی ہیں۔ عرب جماعتیں حکومت میں شامل ہو کر یا باہر سے حمایت دے کر کسی حکومت کو سہارا دے سکتی ہیں۔ ماضی میں ایسا ہو چکا ہے: 2021 میں منصور عباس کی جماعت راعَم نفتالی بینیٹ کی حکومت کا باضابطہ حصہ بنی تھی۔ اس بار بھی منصور عباس نئی حکومت میں شرکت پر آمادہ بتائے جاتے ہیں، جبکہ احمد طیبی حکومت میں شامل ہوئے بغیر حمایت کا امکان رکھتے ہیں۔ مگر راستہ آسان نہیں، کیونکہ نیتن یاہو اور بینیٹ دونوں پہلے کہہ چکے ہیں کہ وہ ایسی حکومت نہیں بنائیں گے جس کا انحصار عرب جماعتوں پر ہو، اور کئی یہودی رہنما اسے سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔

فلسطینیوں کے لیے اس انتخاب کا مطلب جاننا بھی ضروری ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے کے بیشتر فلسطینی اسرائیلی انتخابات میں ووٹ نہیں دے سکتے، حالانکہ نتائج کا سب سے براہِ راست اثر انہی پر پڑتا ہے۔ آئزنکوٹ نے فلسطینی مسئلے کے حل پر اب تک واضح مؤقف نہیں دیا، اور اپوزیشن کے اہم رہنما غزہ میں حماس کی حکمرانی ختم کرنے کی بات کرتے ہیں مگر فلسطینی ریاست کی واضح حمایت نہیں کرتے۔ اس لیے نیتن یاہو کے جانے سے حکومت کا انداز اور سفارتی ترجیحات تو بدل سکتی ہیں، مگر فلسطین پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی توقع کرنا قبل از وقت ہوگا۔ اصل فرق اس بات سے پڑے گا کہ نئی حکومت غزہ کی جنگ، انسانی امداد، یرغمالیوں اور قیدیوں اور مغربی کنارے کی آبادکاری پر عملاً کیا فیصلے کرتی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ یہ انتخابات اسرائیلی تاریخ کے اہم ترین انتخابات اس لیے سمجھے جا رہے ہیں کہ یہ جنگ کے بعد عوام کا پہلا بڑا فیصلہ ہیں۔ ان سے طے ہوگا کہ سات اکتوبر کی ذمہ داری کا حساب لیا جائے گا یا نہیں، فوجی خدمت کا بوجھ سب پر برابر پڑے گا یا نہیں، اور عدلیہ اور ریاستی اداروں کا مستقبل کیا ہوگا۔ سب سے زیادہ امکان یہی ہے کہ کسی کو واضح اکثریت نہ ملے اور اسرائیل کو ایک بار پھر طویل اور مشکل اتحادی مذاکرات سے گزرنا پڑے۔ نیتن یاہو جیتیں یا آئزنکوٹ، نئی حکومت کو انہی بڑے مسائل کا سامنا کرنا ہوگا، اور اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ انہیں حل کرنے کے لیے کیا عملی قدم اٹھاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

امریکہ سے افغان شہریوں کو پاکستان منتقل کرنے کے بلومبرگ کے انکشاف اور اس کے علاقائی امن پر اثرات پر اہم رپورٹ۔

October 27, 2026

اردن نے جنوبی شام میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جن میں شامی حکام کے مطابق 7 افراد ہلاک ہوئے۔ حملوں کے بعد شام نے نصیب سرحدی گزرگاہ بند کردی۔

October 27, 2026

نوشکی کے گرلز ڈگری کالج میں تین مسلح افراد کی فائرنگ سے 3 طالبات زخمی ہوگئیں۔ ایڈمن آفیسر کے مطابق ملزمان نے پرنسپل کے دفتر میں توڑ پھوڑ بھی کی۔

October 27, 2026

فخرہ یونس تیزاب حملہ کیس پر یورپی یونین کے سخت نوٹس اور راجہ فاروق حیدر کی سیاست پر اٹھتے سوالات کے حوالے سے اہم خبر۔

October 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *