تہران میں منعقدہ چار فریقی اجلاس نے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ کے حامیوں کی سازشوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سفارتی پیش رفت نے ان حلقوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جو خطے میں جنگ اور عدم استحکام کے خواہاں ہیں۔
مغرب میں محفوظ مقامات پر بیٹھے بعض عناصر اور خلیج تعاون کونسل کے چند حلقے مشرق وسطیٰ میں مسلسل تشدد اور مسلم ممالک کے باہمی تصادم کے آرزو مند ہیں۔ یہ عناصر پاکستان اور ترکیہ کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ وہ خطے کو ایک اور بڑی جنگ میں دھکیلنے کے بجائے تحمل اور سفارت کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔
خطے کو اس وقت بالواسطہ جنگوں اور رقابتوں کے بجائے امن اور باہمی مذاکرات کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کا کشیدگی کے خاتمے اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے اٹھایا گیا قدم لائقِ تحسین ہے۔
محفوظ فاصلوں سے جنگ کی تگ و دو کرنے والوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس تباہی کی اصل قیمت عام انسانوں کو چکانی پڑتی ہے۔ انسانی جانوں کا ضیاع، معیشتوں کی بربادی اور نسلوں تک پھیلنے والا عدم استحکام خطے کے مستقبل کو تاریک کر رہا ہے۔





