آج مسجد الحرام کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور تاریخی سنگِ میل مکمل ہو رہا ہے۔ آج سے ٹھیک ایک صدی قبل، یعنی 26 اکتوبر 1926 میں خانہ کعبہ کے صحن میں ایک ایسا انقلابی انتظامی و فقہی فیصلہ نافذ کیا گیا جس نے عالمِ اسلام کی صدیوں پرانی روایت کو بدل کر رکھ دیا۔ یہ فیصلہ مسجد الحرام میں الگ الگ مسالک کے متعدد مصلوں کے خاتمے اور ہر فرض نماز کے لیے ایک ہی باضابطہ جماعت کے قیام کا تھا۔ ایک سو سال قبل اٹھائے جانے والے اس قدم نے نہ صرف حرمِ مکی کے نظم و نسق کو یکسر تبدیل کیا بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور یکجہتی کی ایک ایسی عملی اور درخشندہ مثال قائم کی جو آج بھی دنیا بھر کے زائرین کے سامنے موجود ہے۔
مقاماتِ اربعہ اور پس منظر
کئی صدیوں تک مسجد الحرام کا اندرونی صحن صرف عبادت کی جگہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے آنے والے مختلف فقہی مکاتبِ فکر کے فقہی تنوع کا بھی غماز تھا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں حرمِ مکی کے اندر حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی مسالک کے ماننے والوں کے لیے الگ الگ مقامات قائم کیے گئے تھے، جنہیں تاریخی طور پر مقاماتِ اربعہ کہا جاتا ہے۔ ہر مقام پر ایک الگ محراب اور منبر ہوتا تھا جہاں متعلقہ مسلک کا امام اپنی جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتا تھا۔ بعض ابتدائی تاریخی روایات کے مطابق، ماضی میں یہاں چار کے بجائے پانچ مصلے بھی رہے جن میں زیدی مقام بھی شامل تھا، تاہم بعد کے ادوار میں یہ تعداد چار پر ہی مستقل ہو گئی۔
اس نظام کے آغاز کے بارے میں مؤرخین کی آرا میں کسی حد تک اختلاف پایا جاتا ہے۔ تاریخی تحقیقات کے مطابق ان مقامات کا باقاعدہ ظہور پانچویں صدی ہجری کے دوران یعنی غالباً پانچویں صدی کے وسط سے اس کے اختتام کے درمیانی عرصے میں ہوا۔ بعض محققین کا ماننا ہے کہ اس دور کے سیاحوں کے سفرناموں اور تاریخی تذکروں میں اس تقسیم کے آثار ملتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ انتظام عہدِ رسالت، دورِ صحابہ یا خلفائے راشدین کا حصہ نہیں تھا، بلکہ بعد کے اسلامی ادوار میں مسلم معاشرے کی وسعت اور مختلف علاقوں کے فقہی رجحانات کے پھیلاؤ کے نتیجے میں بتدریج پروان چڑھا۔
ایک ہی نماز چار بار
مقاماتِ اربعہ کے نفاذ کے بعد مسجد الحرام میں ایک ہی فرض نماز الگ الگ جماعتوں کی صورت میں چار چار بار ادا کی جاتی تھی۔ عام طور پر ترتیب یہ ہوتی تھی کہ ایک مسلک کے فارغ ہونے کے بعد دوسرے مسلک کے ماننے والے اپنے امام کے پیچھے کھڑے ہو جاتے تھے۔ خاص طور پر نمازِ مغرب کے وقت، جب وقت انتہائی محدود ہوتا تھا، چاروں جماعتیں تقریباً ایک ہی وقت میں فضا میں بلند ہوتی تھیں جس کی وجہ سے آوازیں آپس میں گڈمڈ ہو جاتی تھیں، صفوں کا تناسب متاثر ہوتا تھا، اور بعض اوقات نمازی غلطی سے دوسری جماعت کے رکوع یا سجدے کی پیروی کر بیٹھتے تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نظام بعض انتظامی اور سماجی پیچیدگیوں کا بھی شکار ہونے لگا۔ اگرچہ ابتدائی ادوار میں اسے فقہی تنوع کی سہولت کے طور پر قبول کیا گیا تھا، لیکن بعد میں اس کے عملی اثرات نے محققین اور مصلحین کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ مسلکی تعصبات کی بنا پر بعض اوقات لوگ حرم میں موجود ہونے کے باوجود اپنے خاص امام کا انتظار کرتے اور کھڑی ہوئی جماعت میں شامل ہونے سے گریز کرتے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف حرم کی روحانی فضا کے منافی تھا بلکہ محدود جگہ کے پیشِ نظر ہزاروں عازمین کے لیے نظم و نسق کو بھی مشکل بنا رہا تھا۔ مسجدِ نبوی، جامع اموی دمشق اور جامع ازہر جیسے دیگر تاریخی مراکز میں بھی کسی نہ کسی شکل میں ایسے رجحانات پائے جاتے تھے، لیکن حرمین شریفین میں اس کی نوعیت سب سے زیادہ نمایاں تھی۔
پس منظر
جب شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے حجازِ مقدس کا انتظام سنبھالا تو حرمین شریفین کی اصلاح و مرمت اور انتظامی ڈھانچے کی بہتری ان کی اولین ترجیحات میں شامل تھی۔ اس دور کے سیاسی اور انتظامی حالات کا تقاضا تھا کہ ایک ایسی مربوط فضا بنائی جائے جو تمام مسلمانوں کو ایک مرکز پر جمع کر سکے۔ اس پس منظر میں شاہی حکومت اور مکہ مکرمہ و نجد کے نامور علما کے درمیان مشاورت کا آغاز ہوا۔
اس اصلاحی عمل کا مقصد کسی خاص مسلک کو ختم کرنا ہرگز نہیں تھا، بلکہ دینی، انتظامی اور عدالتی ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ بادشاہ کی سرپرستی میں ہونے والی ان صلاح مشوروں کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ مسجد الحرام جیسی مقدس ترین عبادت گاہ میں، جہاں پوری دنیا کے مسلمان ایک خدا کی عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں، نماز کا نظام بھی متحد اور یکساں ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں علما کی کمیٹیوں نے گہرے غور و خوض کے بعد اس بات پر اتفاق کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ منتشر جماعتوں کے اس سلسلے کو ختم کر کے ایک ہی منظم صف اور ایک ہی امام کے پیچھے نمازِ باجماعت کا نظام نافذ کیا جائے۔
علما کا تاریخی اجتماع
اکتوبر 1926 کے دوران مکہ مکرمہ میں حجاز اور نجد کے جید علما اور مشائخ کا ایک تاریخی اجتماع منعقد ہوا۔ اس اجتماع میں اس نازک معاملے کے تمام دینی، فقہی اور انتظامی پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا۔ طویل بحث و مباحثے کے بعد تمام علما اس بات پر متفق ہو گئے کہ مسجد الحرام میں اب سے ہر فرض نماز ایک ہی جماعت کے ساتھ ادا کی جائے گی۔
اس فیصلے کو جامع اور متوازن بنانے کے لیے ایک نہایت خوبصورت حکمت عملی اپنائی گئی تاکہ تمام بڑے مکاتبِ فکر کا احترام بھی برقرار رہے اور وحدت بھی قائم ہو۔ طے پایا کہ مختلف مسالک (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کے قابلِ اعتماد اور جید علما و ائمہ میں سے نامزدگی کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ہر مسلک سے باقاعدہ ائمہ کا انتخاب کیا گیا جو باری باری پانچ وقت کی نمازوں کی امامت کے فرائض انجام دیں۔
اس فہرست میں شیخ عبدالظاہر ابو السمح، شیخ عبدالرحمن الزواوی، شیخ محمد علی خوقیر، شیخ عباس عبدالجبار، شیخ عبداللہ مرداد، شیخ امین فودہ اور شیخ عباس مالکی جیسے جید علما شامل تھے۔ جب یہ تجاویز اور نام شاہی دربار میں پیش کیے گئے تو ان کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی، اور اس طرح حرمِ مکی کی تاریخ میں ایک نئے اور روشن باب کا آغاز ہوا۔
ایک صدی کا سفر
گزشتہ ایک سو برس کے اس طویل سفر نے ثابت کر دیا کہ ایک جماعت کا یہ فیصلہ کتنا دور رس اور برکت والا تھا۔ اس نظام کے نفاذ کے بعد سے مسجد الحرام میں حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی پس منظر رکھنے والے لاکھوں نمازی اور دنیا بھر سے آنے والے زائرین ایک ہی صف میں کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔
اس انصرام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ حرم کی محدود جگہ کا انتہائی مؤثر استعمال ممکن ہوا۔ آج جب رمضان المبارک، ایامِ حج، اور جمعہ کے اجتماعات میں نمازیوں اور معتمرین کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کر کے کئی ملین تک پہنچ جاتی ہے، تو چار الگ الگ جماعتوں کا تصور کرنا بھی محال معلوم ہوتا ہے۔ ایک ہی امام کی اقتداء میں لاکھوں دلوں کا ایک ساتھ دھڑکنا اور ایک آواز پر سجدہ ریز ہونا امتِ مسلمہ کی وحدت کا سب سے بڑا عملی مظہر بن چکا ہے۔
یہاں یہ نکتہ بھی انتہائی قابلِ ذکر ہے کہ اس نظام نے مسالک کا خاتمہ نہیں کیا، بلکہ نماز کی ادائیگی میں اجتماعیت کو فروغ دیا۔ حرم کے علمی حلقوں میں آج بھی فقہی مذاہب کی تعلیم، تدریس اور علمی مباحث کا سلسلہ اسی طرح جاری ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نماز کی وحدت اور فقہی تنوع باہم ٹکراتے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے معاون ہیں۔ ایک صدی گزرنے کے بعد دنیا کے کسی بھی کونے سے آنے والے مسلمان کا بغیر کسی تردد کے حرم کے موجودہ امام کے پیچھے نماز ادا کرنا اس بات کا غماز ہے کہ یہ نظام عامۃ المسلمین کے دلوں میں پوری طرح راسخ ہو چکا ہے۔
دینی مصلحت
اس سو سالہ تسلسل کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ یہ فیصلہ بیک وقت ایک گہری دینی مصلحت اور فہمِ تدبیر کا نتیجہ تھا۔ جہاں ایک طرف اس نے انتشار اور مسلکی دوریوں کو ختم کیا، وہیں دوسری طرف اس نے حرمین شریفین کی انتظامی پختگی کو بھی دنیا کے سامنے پیش کیا۔
تاریخ کے اس موڑ نے یہ حقیقت بھی واضح کر دی کہ امتِ مسلمہ جب اپنے بنیادی شعائر میں اتحاد کا مظاہرہ کرتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں۔ مسجد الحرام میں ایک جماعت کا قیام محض ایک انتظامی حکم نہیں تھا بلکہ یہ اس بات کا عملی اعلان تھا کہ اختلافاتِ فروعی کے باوجود قبلہ واحد، کتاب واحد اور مرکزِ امت واحد کی چھت تلے امت کے صفیں ہمیشہ جڑی رہنی چاہئیں۔ آج جب اس تاریخ کو پورے سو سال ہو چکے ہیں، تو یہ دن صرف ایک انڈیکس یا تاریخ نہیں بلکہ اس بات کا اعادہ ہے کہ وحدتِ امت کا یہ سفر کامیابی کے ساتھ اپنی اگلی منزلوں کی طرف گامزن ہے۔





