"> مددگار یا مکار؟ - HTN Urdu

سو سال مکمل: کعبہ میں چار جماعتوں سے ایک جماعت تک کا تاریخی سفر

مسجد الحرام میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب چار فقہی مذاہب کے پیروکار الگ الگ اماموں کی اقتدا میں نماز ادا کرتے تھے۔ اب کعبہ میں چار جماعتوں کے بجائے ایک امام کی سربراہی میں نماز کے نظام کو 100 سال مکمل ہوگئے ہیں۔

مددگار یا مکار؟ تعلیم گاہوں میں خوف کے سائے: جب استاد اور چوکیدار ہی درندے بن جائیں

مددگار یا مکار؟

تعلیمی اداروں میں تحفظ فراہم کرنے والے اساتذہ اور سیکیورٹی اہلکاروں کا ملزم بننا معاشرتی زوال کی خطرناک نشاندہی کرتا ہے۔ کیا واقعی مددگار یا مکار کا یہ روپ ہمارے بچوں کے مستقبل کو نگل رہا ہے؟

مددگار یا مکار؟

تعلیمی اداروں میں تحفظ فراہم کرنے والے اساتذہ اور سیکیورٹی اہلکاروں کا ملزم بننا معاشرتی زوال کی خطرناک نشاندہی کرتا ہے۔ کیا واقعی مددگار یا مکار کا یہ روپ ہمارے بچوں کے مستقبل کو نگل رہا ہے؟
مددگار یا مکار؟ تعلیم گاہوں میں خوف کے سائے: جب استاد اور چوکیدار ہی درندے بن جائیں

اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں استاد اور سیکیورٹی گارڈز کی جانب سے طلبہ کے استحصال اور زیادتی کے واقعات پر ایک تجزیاتی ایڈیٹوریل، جو معاشرتی بے حسی اور حفاظتی اقدامات کے فقدان کو اجاگر کرتا ہے۔

October 28, 2026

تعلیم گاہوں میں خوف کے سائے: جب استاد اور چوکیدار ہی درندے بن جائیں

معاشرے کا استحکام اور ترقی ہمیشہ ان بنیادی رشتوں اور اداروں پر منحصر ہوتی ہے جو افراد کو تحفظ، تربیت اور شعور فراہم کرتے ہیں۔ استاد کو روحانی باپ اور معاشرے کا معمار قرار دیا جاتا ہے، جبکہ سیکیورٹی اہلکار اور چوکیدار وہ طبقہ ہیں جن کے سپرد شہریوں اور خاص طور پر بچوں کی جان و مال کی حفاظت ہوتی ہے۔

تاہم موجودہ دور میں سامنے آنے والے اندوہناک واقعات اس تلخ حقیقت کو آشکار کر رہے ہیں کہ جن ہاتھوں میں تعمیر کا سامان تھا، وہی تخریب کا سبب بن رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محسن اور محافظ سمجھتے ہیں، کیا وہ واقعی مددگار یا مکار ہیں؟ جن چہروں پر مددگار کا نقاب سجا ہے، ان کے پیچھے چھپے مکار اپنے مذموم مقاصد کے لیے معصوم زندگیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اگرچہ یہ سچ ہے کہ تمام لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے اور ہر شعبے میں ایماندار اور بابصیرت افراد کی بڑی تعداد موجود ہے، لیکن حالیہ واقعات نے اس مسلّمہ حقیقت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سندھ کے ضلع خیرپور میرس سے لے کر ملتان کے صدیق آباد اور کندھ کوٹ کے کرمپور تک، اسکولوں کے اندر سے سامنے آنے والی خبریں انتہائی تشویشناک ہیں۔

کہیں دسویں جماعت کی طالبہ کو اس کے اپنے ہی استاد کی جانب سے زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، تو کہیں چھٹی جماعت کی معصوم بچی کو اسکول کی کینٹین کے اندر سیکیورٹی گارڈ کی حوس کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ تعلیمی اداروں کے اندر رونما ہونے والے یہ واقعات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ مددگار یا مکار کی اس جنگ میں معصوم طلبہ بری طرح پس رہے ہیں اور اب خطرہ باہر سڑکوں پر نہیں، بلکہ اسکول کی چاردیواری کے اندر موجود ہے۔

یہ المیہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ امریکہ کے شہر نیویارک کے ایک ایلیمنٹری اسکول میں آٹزم کا شکار ایک بے دفاع نو سالہ بچی کے ساتھ استاد کی جانب سے کی جانے والی بدسلوکی ہو یا بھارت کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کے ساتھ پیش آنے والے جنسی ہراسانی کے واقعات، ہر جگہ ایک ہی خوفناک سچ سامنے آتا ہے۔ وہ انسان جنہیں معاشرہ اور قانون بچوں کی نگہبانی کا حق دیتا ہے، وہی ان کی بے بسی اور معصومیت کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ معاشرے کے یہ مددگار یا مکار دراصل بھیس بدل کر اپنے شکار کی تلاش میں رہتے ہیں۔

تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی اور نظم و ضبط کا موجودہ نظام ان بھیڑیوں کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتا ہے۔ اکثر واقعات میں ملزمان اپنے اثر و رسوخ، دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے معاملے کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملتان کے واقعے میں بھی طالبہ کو گھر والوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی گئیں، جبکہ کندھ کوٹ میں بااثر افراد نے معاملے کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی۔ اگر بروقت قانونی اور انتظامی اقدامات نہ کیے جائیں اور ان جرائم کی پردہ پوشی کی جائے تو اس سے بدقماش عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور مظلوم کا قانون پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتیں، تعلیمی انتظامیہ اور پولیس نظام محض روایتی کارروائیوں اور بیانات سے آگے بڑھ کر عملی قدم اٹھائیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں اساتذہ اور سیکیورٹی عملے کی بھرتی کے وقت ان کی سخت ذہنی اور نفسیاتی جانچ پڑتال کو لازمی قرار دیا جائے۔

تعلیمی اداروں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی فعال موجودگی، نگرانی کے سخت نظام اور بچوں کے لیے شکایت درج کرانے کے محفوظ ذرائع کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ معاشرے کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ جب تک ان مکار چہروں سے نقاب نوچ کر انہیں کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا، تب تک مددگار یا مکار کا یہ بھیانک کھیل جاری رہے گا اور ہماری نسلِ نو اپنے ہی تعلیمی اداروں میں محفوظ نہیں رہ سکے گی۔

متعلقہ مضامین

مسجد الحرام میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب چار فقہی مذاہب کے پیروکار الگ الگ اماموں کی اقتدا میں نماز ادا کرتے تھے۔ اب کعبہ میں چار جماعتوں کے بجائے ایک امام کی سربراہی میں نماز کے نظام کو 100 سال مکمل ہوگئے ہیں۔

October 28, 2026

اسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم کے نتیجے میں 46 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ حادثے کے بعد میڈرڈ اور اندلس کے درمیان ریلوے سروس معطل کر دی گئی۔

October 28, 2026

بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے حاجی شہر میں شوہر کی فائرنگ سے خاتون اور اس کے تین بچے جاں بحق ہوگئے۔ پولیس ملزم کی تلاش میں ہے۔

October 28, 2026

لاہور میں چلتی موٹر سائیکل پر لڑکی کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے والے آن لائن بائیک رائیڈر کو گرفتار کرلیا گیا۔ متاثرہ لڑکی نے خود کو بچانے کے لیے موٹر سائیکل سے چھلانگ لگائی تھی۔

October 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *