داعش خراسان سے وابستہ پراپیگنڈا پلیٹ فارمز نے حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے پاکستان کے عزم اور اس کے بطور ذمہ دار مسلم سیکیورٹی کردار کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
شائع شدہ مواد میں کوئی مربوط دلیل، قابلِ اعتماد ثبوت یا علمی و مذہبی استدلال موجود نہیں۔ یہ پورا بیانیہ صرف مذہبی الزامات، جذباتی دعوؤں اور توہین آمیز زبان پر مبنی ہے۔
پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمگیر حیثیت داعش خراسان کے خود ساختہ اسلام کی نمائندگی کے دعوے کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ دلیل کی ناکامی کے بعد یہ عناصر پاکستان اور اس کی حمایت کرنے والے علماء کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
داعش خراسان کے اس حملہ آور بیانیے میں غیر ملکی سرپرستوں کی مستند ہدایات کا دعویٰ ابھی ثابت ہونا باقی ہے، تاہم اس کا بنیادی مقصد پاکستان کو سفارتی اور مذہبی سطح پر نقصان پہنچانا ہے۔
اس بیانیے کا بنیادی تضاد واضح ہے؛ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حرمین شریفین کی حفاظت کب سے اسلام کے خلاف جرم بن گئی؟ ریاستیں مسلمانوں کی سلامتی کی ذمہ داری اٹھاتی ہیں جبکہ انتہا پسند تکفیر اور تشدد کے ذریعے اجارہ داری چاہتے ہیں۔
جو عناصر مقدس مقامات کے تحفظ پر اعتراض اٹھاتے ہیں، وہ پاکستان کا مؤقف غلط ثابت کرنے کے بجائے اپنی ہی شدید اور گمراہ کن نظریاتی سوچ کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر رہے ہیں۔





