بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بلید میں کالعدم تنظیم کے مسلح افراد کی عوام کے درمیان عام موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین اور مقامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ محض ایک سال کے قلیل عرصے میں علاقے کے سیکیورٹی حالات اس قدر تیزی سے کیسے تبدیل ہو گئے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس واقعے سے متعلق مواد اور کالعدم تنظیمی بیانیے کی بلا روک ٹوک اشاعت پر بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ایکس جیسے پلیٹ فارمز پر دانستہ طور پر پاکستان مخالف مواد اور دہشت گردی کی ترغیب دینے والے بیانیے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، جس پر فوری تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
کالعدم تنظیم کے مسلح افراد بلید بلوچستان میں عوام کے درمیان، آخر ایک سال کے اندر اندر حالات اتنی جلدی کیسے بدل گئے pic.twitter.com/QMKf40TrbW
— Waqar khan (@Waqarkhan) October 28, 2026
عوام اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام کالعدم اور انتہا پسند تنظیموں کے خلاف بغیر کسی دباؤ، رعایت یا ہچکچاہٹ کے حتمی اور فیصلہ کن سیکیورٹی کارروائیاں کرنا ہوں گی۔ ریاست کی مکمل قلمرو قائم کرنے کے لیے ان عناصر کا گٹھ جوڑ توڑنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں ہے، بلکہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے زہریلے بیانیے اور پروپیگنڈے کا سدِباب کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر ان پلیٹ فارمز پر پاکستان مخالف مواد کو نہ روکا گیا تو اس سے شدت پسند عناصر کو مزید تقویت ملے گی۔
شہریوں نے حکومت اور اعلیٰ سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی صورت حال کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں اور سوشل میڈیا پر دہشت گردی کی سہولت کاری کرنے والے تمام اکاؤنٹس کے خلاف سخت قانونی و سفارتی حکمتِ عملی اپنائی جائے۔





