اپاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی ایم کیو ون ڈرون مار گرایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ڈرون کو آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں سِریک کے ساحلی علاقے کے سامنے نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اب تک مار گرائے جانے والے امریکی ڈرونز میں اس نوعیت کا 14واں ڈرون ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور امریکہ کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 اکتوبر کو نیوز ویب سائٹ ایکسیوس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ کسی معاہدے کے ذریعے یا کسی دوسرے طریقے سے ختم کرنا ہوگا۔
ٹرمپ کے مطابق آنے والے وقت میں واضح ہوجائے گا کہ مذاکرات کامیاب ہوسکتے ہیں یا نہیں۔ ان کے بیان میں ڈرون واقعے سے متعلق کوئی براہِ راست تبصرہ شامل نہیں تھا۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ اس علاقے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی فوجی پیش رفت کو علاقائی سلامتی کے تناظر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔





