شمالی کوریا نے وونسان کے علاقے سے مشرقی سمندر کی جانب تقریباً 10 مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق میزائل پاکستانی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 30 منٹ پر داغے گئے۔
جنوبی کوریا اور امریکہ میزائلوں کی پرواز کی حدود اور تکنیکی خصوصیات کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب جاپان نے بتایا کہ ایک مشتبہ میزائل اس کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر گرا۔
رپورٹ کے مطابق یہ رواں سال شمالی کوریا کی جانب سے بیلسٹک میزائل داغنے کا 17واں واقعہ ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنوبی کوریا نے چھ روز قبل فوجی مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔
پیانگ یانگ نے اس پیشکش کا تاحال جواب نہیں دیا۔ شمالی کوریا کی جانب سے تازہ میزائل تجربے پر بھی کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
شمالی کوریا نے 26 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے ایک خط میں اپنے دفاع کا حق استعمال کرنے کی تنبیہ کی تھی۔
خط میں کہا گیا تھا کہ اگر جنوبی کوریا اس کی سرزمین میں داخل ہوا تو پیانگ یانگ اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔ تاہم شمالی کوریا نے تازہ میزائل تجربے اور جنوبی کوریا کی مذاکراتی پیشکش کے درمیان تعلق پر کوئی بیان نہیں دیا۔
میزائلوں کی حدود اور دیگر تکنیکی تفصیلات کا تعین جنوبی کوریا اور امریکہ کے جاری تجزیے کے بعد ہوگا۔





