قطر اور ترکیہ نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت اور عرب ووٹروں پر اثرانداز ہونے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے طنزاً کہا کہ اگر اسرائیلی دعوے درست ہیں تو گویا پورا اسرائیل ہی قطر کا ہوگیا۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ بعض اسرائیلی سیاست دان قطر کو اپنے داخلی سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزامات کو مضحکہ خیز اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی سیاست دان اپنے وزیرِاعظم نیتن یاہو، بائیں بازو کی جماعتوں اور اب عرب ووٹروں کو بھی خریدنے کا الزام قطر پر لگا رہے ہیں۔
ماجد الانصاری نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ان الزامات کو درست مان لیا جائے تو پھر پورا اسرائیل ہی قطر کی ملکیت ہوگیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ قطر اسرائیل کے سیاسی یا انتخابی مقابلے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا اور نہ ہی انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے کسی سرگرمی کی مالی معاونت کی ہے۔
دوسری جانب ترکیہ نے بھی اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔
ترکیہ کے حکومتی سینٹر برائے کاؤنٹر ڈس انفارمیشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ترکیہ کی جانب سے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کے دعوے مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔
بیان میں ان الزامات کو عوامی رائے متاثر کرنے کے لیے چلائی جانے والی گمراہ کن مہم قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ایسی خبروں پر یقین نہ کریں۔
ادھر اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت کو ان الزامات کی تحقیقات سونپی گئی ہیں کہ ترکیہ اور قطر سے رقوم اسرائیل منتقل کی گئیں تاکہ عرب ووٹروں کے انتخابی فیصلوں پر اثرانداز ہوا جا سکے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں نے حالیہ انتخابات میں عرب سیاسی جماعتوں پر قطر سے مالی معاونت حاصل کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ ان جماعتوں نے انتخابات میں ریکارڈ کامیابی حاصل کی ہے۔





