"> باغ بانڈی حادثہ

باغ بانڈی حادثہ کھانا پکاتے ہوئے سلنڈر پھٹنے سے پیش آیا، ڈپٹی کمشنر باغ

وزیراعظم آزاد کشمیر نے واقعے پر سیاست کی شدید مذمت کی، جبکہ ڈپٹی کمشنر باغ نے واقعے کو گھریلو حادثہ قرار دیتے ہوئے عوام سے معیاری سلنڈر استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔
باغ بانڈی حادثہ اور ڈپٹی کمشنر باغ

آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں گیس سلنڈر دھماکے کے اصل حقائق؛ وزیراعظم آزاد کشمیر نے واقعے پر عوامی ایکشن کمیٹی کے پروپیگنڈے کو شرمناک قرار دے دیا۔

October 30, 2026

آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے علاقے بانڈی میں کھانا پکاتے ہوئے گیس سلنڈر پھٹنے کا افسوسناک حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں خواتین نشانہ بنیں اور جانی نقصان ہوا۔ اس دلخراش واقعے کے فوری بعد جہاں انتظامیہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہوئی، وہیں عوامی ایکشن کمیٹی نے واقعے کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے شرمناک پروپیگنڈا شروع کر دیا۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر نے واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ باغ بانڈی میں گیس سلنڈر پھٹنے سے ہونے والی اموات پر شرمناک پروپیگنڈا انتہائی گھٹیا حرکت ہے اور یہ طرزِ عمل خود عوامی ایکشن کمیٹی کے بیانیے اور ان کے کردار پر بڑا لمحہ فکریہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ مکمل طور پر ایک گھریلو حادثہ تھا جو کھانا پکانے کے دوران پیش آیا۔ ڈپٹی کمشنر باغ کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ سلنڈر کا دھماکہ تھا، جس کے باعث خواتین اس کی زد میں آئیں۔

ڈپٹی کمشنر نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے حادثات سے بچنے کے لیے غیر معیاری سلنڈروں کے بجائے صرف معیاری گیس سلنڈر کا استعمال یقینی بنائیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ایک ناگہانی حادثے کو غلط رنگ دے کر منفی پروپیگنڈا کرنا نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے غم کی تذلیل ہے بلکہ عوامی جذبات کے ساتھ کھیلنے کی مذموم کوشش بھی ہے۔

حقائق واضح کرتے ہیں کہ حکومت اور انتظامیہ صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ حادثات سے بچاؤ کے لیے معیاری اقدامات اور احتیاط انتہائی ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

قطری ثالثوں کی امریکہ اور ایران کے درمیان سمجھوتے کے لیے تہران آمد؛ واشنگٹن کی کوآرڈینیشن سے سفارتی تلاش تیز ہو گئی۔

October 30, 2026

کراچی کے کامران چورنگی کے قریب فرنیچر مارکیٹ میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا، آتشزدگی سے 35 دکانیں اور 10 سے 12 جھگیاں جل گئیں۔

October 30, 2026

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو خطے میں آبی سیکیورٹی اور انسانی بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

October 30, 2026

یمنی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں کے خلاف 24 گھنٹوں میں 324 جنگجو ہلاک اور 108 فوجی گاڑیاں تباہ کردی گئیں۔ کارروائیاں تعز، مارب اور دیگر محاذوں پر جاری ہیں۔

October 30, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *