آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے علاقے بانڈی میں کھانا پکاتے ہوئے گیس سلنڈر پھٹنے کا افسوسناک حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں خواتین نشانہ بنیں اور جانی نقصان ہوا۔ اس دلخراش واقعے کے فوری بعد جہاں انتظامیہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہوئی، وہیں عوامی ایکشن کمیٹی نے واقعے کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے شرمناک پروپیگنڈا شروع کر دیا۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر نے واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ باغ بانڈی میں گیس سلنڈر پھٹنے سے ہونے والی اموات پر شرمناک پروپیگنڈا انتہائی گھٹیا حرکت ہے اور یہ طرزِ عمل خود عوامی ایکشن کمیٹی کے بیانیے اور ان کے کردار پر بڑا لمحہ فکریہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ مکمل طور پر ایک گھریلو حادثہ تھا جو کھانا پکانے کے دوران پیش آیا۔ ڈپٹی کمشنر باغ کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ سلنڈر کا دھماکہ تھا، جس کے باعث خواتین اس کی زد میں آئیں۔
ڈپٹی کمشنر نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے حادثات سے بچنے کے لیے غیر معیاری سلنڈروں کے بجائے صرف معیاری گیس سلنڈر کا استعمال یقینی بنائیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ایک ناگہانی حادثے کو غلط رنگ دے کر منفی پروپیگنڈا کرنا نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے غم کی تذلیل ہے بلکہ عوامی جذبات کے ساتھ کھیلنے کی مذموم کوشش بھی ہے۔
حقائق واضح کرتے ہیں کہ حکومت اور انتظامیہ صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ حادثات سے بچاؤ کے لیے معیاری اقدامات اور احتیاط انتہائی ضروری ہے۔





