اے این پی کے رہنما ایمل ولی خان نے پاک بھارت تنازع کو مصنوعی جنگ قرار دیتے ہوئے افواجِ پاکستان اور ملکی سلامتی کے اداروں کی قربانیوں پر شدید تنقید کی ہے، جس پر عوام اور سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ جنگ محض ایک ڈرامہ تھی اور امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مہربانی سے آرمی چیف کو فیلڈ مارشل کا عہدہ دیا گیا۔
ایمل ولی خان کا جنگ کو مصنوعی قرار دینا زمینی حقائق اور شہداء کی قربانیوں کی واضح نفی ہے۔ مئی 2025 میں بھارتی جارحیت اور فضائی و میزائل حملوں کے نتیجے میں نہ صرف پاکستانی شہری شہید ہوئے بلکہ پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کے ذریعے بھارت کو دندان شکن جواب بھی دیا۔
اس تاریخ ساز جواب اور بھارتی طیارے و ڈرون گرائے جانے کی تصدیق عالمی اور غیر جانبدار میڈیا نے بھی کی، تاہم اپنی ڈوبتی سیاست کو بچانے کے لیے ایمل ولی خان شہداء کے خون پر سیاست چمکا رہے ہیں۔
ٹرمپ اور پاکستان کے درمیان جنگ فکسنگ کے ہوائی الزامات پر ایمل ولی خان کے پاس کوئی سائنسی یا سفارتی ثبوت موجود نہیں ہے۔ اپنی خاندانی اور پارلیمانی سیاست کے زوال اور انتخابات میں متوقع ناکامی سے دھیان ہٹانے کے لیے بین الاقوامی معاملات پر اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینا ان کی سیاسی بے حسی اور کم علمی کا ثبوت ہے۔
مئی 2025 میں وفاقی کابینہ نے آپریشن بنیان المرصوص کے کامیاب دفاع اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے اعتراف میں فیلڈ مارشل کا عہدہ دینے کی منظوری دی تھی۔ اے سی رومز میں بیٹھ کر فوج پر تنقید کرنا آسان ہے، جبکہ -15 ڈگری درجہ حرارت میں سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جوانوں کی بدولت ہی ملک محفوظ ہے۔ اگر فیلڈ مارشل اور افواجِ پاکستان نے مضبوط دفاع نہ کیا ہوتا تو ملک کو شدید خطرات کا سامنا ہوتا۔
افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی اور ٹی ٹی پی کے حوالے سے ایمل ولی خان کی جانب سے اپنے ہی ملک پر الزام تراشی انتہائی تشویشناک ہے۔ اقوام متحدہ کی فروری 2025 کی مانیٹرنگ رپورٹ میں واضح درج ہے کہ ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے 600 سے زائد حملے کیے اور انہیں افغان طالبان کی جانب سے لاجسٹک اور مالی معاونت ملی۔ یہ پاکستان کا خود ساختہ الزام نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے دیے گئے ناقابلِ تردید شواہد ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2600 کلومیٹر طویل اور دشوار گزار پہاڑی سرحد کو راتوں رات مکمل طور پر سیل کرنا ممکن نہیں ہے۔ سپر پاور امریکہ بھی میکسیکو کے ساتھ اپنی 2000 میل طویل ہموار سرحد پر باڑ یا مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر سکا۔ باڑ پر ڈیوٹی دینے والے جوانوں کا تمسخر اڑانے کے بجائے سیاست دانوں کو سرحدی حقائق کا درک ہونا چاہیے۔
ایمل ولی خان کا یہ متنازع بیانیہ دراصل اپنی پارٹی کے سیاسی زوال، ووٹ بینک کے خاتمے اور خیبر پختونخوا میں سیاسی تنہائی کا نتیجہ ہے۔ اپنے آباؤ اجداد باچا خان کی سیاسی میراث کو نقصان پہنچانے کے بعد اب افواجِ پاکستان مخالف بیانیے کا سہارا لے کر توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔





