"> جنرل عبدالوحید کاکڑ کون تھے؟

اچانک آرمی چیف بنے، توسیع کی پیشکش بھی ٹھکرا دی: کون تھے وہ جنرل؟

جنرل عبدالوحید کاکڑ اچانک آرمی چیف بنے اور مدت پوری ہونے پر توسیع کی پیشکش ٹھکرا کر گھر چلے گئے۔ 89 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔
جنرل عبدالوحید کاکڑ کون تھے؟

جنرل عبدالوحید کاکڑ کون تھے؟ ریٹائرمنٹ کی تیاری کرنے والا جنرل اچانک آرمی چیف بنا اور پھر بے نظیر بھٹو کی توسیع کی پیشکش ٹھکرا کر گھر چلا گیا۔

October 30, 2026

کچھ لوگ منصب کی تلاش میں عمر گزار دیتے ہیں اور کچھ کے پاس منصب خود چل کر آ جاتا ہے۔ جنرل عبدالوحید کاکڑ دوسری قسم کے لوگوں میں سے تھے۔ جس دن انھیں پاکستانی فوج کی کمان سونپی گئی، وہ ریٹائرمنٹ کی تیاری کر رہے تھے، اور جب مدت پوری ہوئی تو انھوں نے ایک بار پھر سب کو حیران کر دیا کہ توسیع کی پیشکش کو مسکرا کر ٹھکرا دیا۔ ایک ایسی زندگی جس کی ابتدا بھی غیر متوقع تھی اور رخصتی بھی۔ پیر 26 اکتوبر کی صبح 89 برس کی عمر میں ان کے انتقال کی خبر آئی تو یہ دونوں لمحے ایک بار پھر یاد آ گئے۔

عبدالوحید کاکڑ 23 مارچ 1937 کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پشتو بولنے والے کاکڑ قبیلے سے تھا، جس کی بڑی آبادی بلوچستان اور افغانستان کے علاقوں میں رہتی ہے۔ ملیحہ لودھی کی کتاب کے مطابق انھوں نے ایڈورڈز کالج پشاور سے تعلیم پائی اور 1959 میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ بعد میں کینیڈا کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج اور نیشنل ڈیفنس کالج میں بھی زیرِ تعلیم رہے۔ وہ تحریکِ پاکستان کے کارکن سردار عبدالرب نشتر کے بھتیجے تھے۔ 1965 کی جنگ میں انھوں نے چونڈا کے محاذ پر عملی خدمات انجام دیں، اور 1971 میں سلیمانکی سیکٹر میں ایک انفنٹری بریگیڈ کی کمان سنبھالی۔ ان کے ساتھی انھیں صاف گو، دیانتدار اور سخت نظم و ضبط کا پابند بتاتے تھے۔

ان کے تقرر کی کہانی کسی تصوراتی منظر سے کم نہیں۔ 1993 میں جنرل آصف نواز کی اچانک وفات کے بعد چار دن تک نئے آرمی چیف کے بارے میں قیاس آرائیاں ہوتی رہیں، مگر کسی فہرست میں عبدالوحید کاکڑ کا نام نہیں تھا۔ وہ کوئٹہ میں کور کمانڈر تھے، سنیارٹی میں پانچویں نمبر پر تھے اور لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر چار سال گزار چکے ہونے کی وجہ سے اسی سال ریٹائر ہونے والے تھے۔ ہین جی کیسلنگ لکھتے ہیں کہ اپنے تقرر کی خبر سن کر وہ اتنے ہی حیران ہوئے جتنے دوسرے لوگ۔ ان سے سینیئر چار افسران، رحم دل بھٹی، محمد اشرف، فرخ اور عارف بنگش، اس منصب کی امید لگائے بیٹھے تھے اور محروم رہ گئے۔ اور وہ اس وقت نو کور کمانڈروں میں عوامی سطح پر سب سے کم معروف تھے۔

اس انتخاب کے پیچھے ایک پس منظر ضرور تھا۔ ماجد نظامی کے مطابق نئے آرمی چیف کے نام پر صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان اختلاف تھا۔ صدر کے قریبی حلقے سب سے سینیئر جنرل فرخ کے حق میں تھے، جبکہ وزیراعظم ہاؤس کو یہ نام قبول نہیں تھا۔ آخر کار صدر نے ایسا نام سامنے رکھا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ کیسلنگ کے مطابق انھیں اس منصب کے لیے اس لیے چنا گیا کہ وہ سیاسی جوڑ توڑ کرنے والے شخص نہیں سمجھے جاتے تھے۔ جی ایچ کیو میں اپنے پہلے خطاب میں انھوں نے امید ظاہر کی تھی کہ ان کا دور بھی جنرل آصف نواز کے دور کی طرح فوج کو سیاست سے دور رکھنے کا تسلسل ہو گا، مگر جلد ہی انھیں احساس ہو گیا کہ انھوں نے ایک مشکل وعدہ کر لیا ہے۔

ان کے دور کے چند اہم واقعات کا ذکر یہاں ضروری ہے۔ 1993 کے بحران میں انھوں نے مارشل لا کے بجائے آئینی راستہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں صدر اور وزیراعظم دونوں رخصت ہوئے اور نئے انتخابات ہوئے۔ اس فیصلے کو کچھ لوگ جمہوریت بچانے کی کوشش کہتے ہیں اور کچھ اسے مداخلت قرار دیتے ہیں۔ ستمبر 1995 میں انھوں نے فوج کے اندر ایک سنگین سازش کا سراغ لگایا، جس کی قیادت مبینہ طور پر میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی کر رہے تھے، اور اسے ناکام بنایا گیا۔ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جنرل کاکڑ نے انھیں اس سازش کی تفصیلات سنائیں اور وہ ان لوگوں کو فوجی عدالتوں سے سزا دلوانا چاہتے تھے۔

اب آتے ہیں ان کی زندگی کے اس پہلو کی طرف جس نے انھیں سب سے زیادہ پہچان دی، یعنی توسیع سے انکار۔ بے نظیر بھٹو کو فوج میں انتہا پسند عناصر کی دراندازی کی تشویش تھی، اس لیے انھوں نے 1995 میں جنرل کاکڑ کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عہدے پر برقرار رہنے کی پیشکش کی۔ جنرل کاکڑ نے یہ تجویز قبول نہیں کی۔ محمد حسن معراج بتاتے ہیں کہ 1995 کے آخر میں حکومت نے مختلف ذرائع سے متعدد پیغامات بھجوائے، مگر ان کا جواب ایک جملے کی صورت میں مشہور ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان دنوں وہ عمرے سے واپس آئے تو کسی نے فیصلہ پوچھا، اور انھوں نے کہا: نا مڑا۔۔۔۔۔۔ آئی ایم گوئنگ ہوم۔ یعنی بات ختم، میں گھر جا رہا ہوں۔

ماجد نظامی کے مطابق پاکستانی فوج کی تاریخ میں اب تک صرف دو جرنیل ایسے گزرے ہیں جنھوں نے توسیع کی پیشکش ٹھکرائی اور مدتِ ملازمت پوری ہونے پر پیشہ ورانہ انداز میں گھر کا رخ کیا۔ پہلے جنرل ٹکا خان تھے، جنھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پیشکش قبول نہیں کی، اور دوسرے عبدالوحید کاکڑ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کا رویہ مختلف رہا۔ انھوں نے سیاسی معاملات پر بولنے سے گریز کیا اور خاموش زندگی گزاری، جو انھیں دیگر طاقتور جرنیلوں سے ممتاز کرتی ہے۔

یوں ان کی کہانی کے دو سرے ایک دوسرے سے گہرا ربط رکھتے ہیں۔ جو شخص منصب کی خواہش کے بغیر وہاں پہنچا، وہ منصب چھوڑنے میں بھی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوا۔ شاید اسی لیے آج جب ان کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے فیصلوں سے زیادہ ان کی وہ سادہ سی بات یاد آتی ہے جو انھوں نے طاقت اور عہدے کے سامنے کہی تھی۔ ان کے کردار پر بحث ہوتی رہے گی، لیکن اتنا طے ہے کہ وہ آئے بھی اچانک اور گئے بھی اپنی مرضی سے، اور دونوں بار سب کو حیران کر کے۔

متعلقہ مضامین

پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کے مکہ دفاعی معاہدے پر بھارتی تنقید پر ترکیے کا سخت ردِعمل، ترک وزیر خارجہ نے بھارتی رویے کو غیر اہم قرار دے دیا۔

October 30, 2026

پاکستان اور سنگاپور میں تجارت، سرمایہ کاری اور تعلیمی تعاون بڑھانے پر اتفاق، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بھی معاہدہ طے پا گیا۔

October 30, 2026

کبھی معاشی اصولوں کا تمسخر اڑانے والے طالبان کی ضدی پالیسیوں نے افغان تاجروں کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ سرحدیں بند ہونے سے انار سڑ رہے ہیں اور معیشت کا جنازہ نکل چکا ہے۔

October 30, 2026

قطری ثالثوں کی امریکہ اور ایران کے درمیان سمجھوتے کے لیے تہران آمد؛ واشنگٹن کی کوآرڈینیشن سے سفارتی تلاش تیز ہو گئی۔

October 30, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *