پاکستان اور سنگاپور نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ہنرمندی کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل دوطرفہ سیاسی مشاورت پر اتفاق ہوا ہے۔ پاکستان ان ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے سنگاپور کو تسلیم کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ سنگاپور کے کسی وزیر خارجہ کا پاکستان کا یہ دو دہائیوں میں پہلا دورہ ہے۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے اعلیٰ سطح کے روابط جاری رکھنے اور کاروباری اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اسحاق ڈار کے مطابق سنگاپور میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ دفتر کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے روابط کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران پاکستان کے کردار کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کردار پر پاکستان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے پاکستان کو خوبصورت ملک قرار دیا اور بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سنگاپور کے دورے کی دعوت قبول کر لی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بھی تعاون کی ایک اہم دستاویز پر دستخط کیے گئے۔ اسحاق ڈار کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور سنگاپور کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ابتدائی انتباہی نظام سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور سنگاپور کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 60ویں سالگرہ کے موقع پر دیرینہ دوستانہ تعلقات کا جائزہ بھی لیا۔
ملاقات میں ہنرمندی کی ترقی، عوامی سطح پر روابط، علاقائی تعاون اور آسیان کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر بھی گفتگو ہوئی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے تنازعات کے حل اور پائیدار امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔





