"> مکہ دفاعی معاہدہ: بھارت کی تنقید پر ترک وزیر خارجہ کا ردِعمل

مکہ معاہدے پر بھارتی تنقید کو ترک وزیر خارجہ نے ہنسی میں اڑا دیا

پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کے مکہ دفاعی معاہدے پر بھارتی تنقید پر ترکیے کا سخت ردِعمل، ترک وزیر خارجہ نے بھارتی رویے کو غیر اہم قرار دے دیا۔
مکہ دفاعی معاہدہ: بھارت کی تنقید پر ترک وزیر خارجہ کا ردِعمل

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ اتحاد سے خوفزدہ بھارت کے تبصروں کو ہنسی میں ٹال دیتے ہیں، جلد حقیقت کا احساس ہوگا۔

October 30, 2026

ترکیہ کے وزیر خارجہ نے پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے تاریخی مکہ دفاعی معاہدے پر بھارت کی منفی تنقید اور بوکھلاہٹ کو شدید مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تینوں اتحاد دوست ممالک بھارت کے ان بے جا تبصروں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور انہیں صرف ہنسی میں ٹال دیتے ہیں۔

ترک وزیر خارجہ کے مطابق بھارت خطے میں بدلتے ہوئے دفاعی توازن اور اسلامی دنیا کی ان تین بڑی طاقتوں کے یکجا ہونے سے خوفزدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سٹریٹجک شراکت داری کا مذاق اڑانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ معاہدہ خطے کی سلامتی اور پائیدار امن کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے۔

انہوں نے بھارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں نئی دہلی کو اس بات کا تلخ احساس ہو جائے گا کہ مکہ دفاعی معاہدہ خطے کی سیاسی و دفاعی صورتحال کو تبدیل کرنے کی کتنی عظیم صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی اور تعصب اس سٹریٹجک حقیقت کو چھپا نہیں سکتے۔

انادولو ایجنسی کو دیے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت سمیت دیگر مخالفین کی تنقید بے بنیاد ہے۔ مکہ اتحاد خطے میں دور رس، مثبت اور انقلابی تبدیلیاں لانے والا ایک مضبوط پلیٹ فارم ثابت ہوگا، جس سے مخالفین کی تمام تر سازشیں ناکام ہو جائیں گی۔

متعلقہ مضامین

پاکستان اور سنگاپور میں تجارت، سرمایہ کاری اور تعلیمی تعاون بڑھانے پر اتفاق، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بھی معاہدہ طے پا گیا۔

October 30, 2026

جنرل عبدالوحید کاکڑ اچانک آرمی چیف بنے اور مدت پوری ہونے پر توسیع کی پیشکش ٹھکرا کر گھر چلے گئے۔ 89 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔

October 30, 2026

کبھی معاشی اصولوں کا تمسخر اڑانے والے طالبان کی ضدی پالیسیوں نے افغان تاجروں کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ سرحدیں بند ہونے سے انار سڑ رہے ہیں اور معیشت کا جنازہ نکل چکا ہے۔

October 30, 2026

قطری ثالثوں کی امریکہ اور ایران کے درمیان سمجھوتے کے لیے تہران آمد؛ واشنگٹن کی کوآرڈینیشن سے سفارتی تلاش تیز ہو گئی۔

October 30, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *