"> ذبیح اللہ مجاہد کا بیانیہ جھوٹ کا پلندہ: پاکستان کے سفارتی حقائق اور طالبان کی ہٹ دھرمی - HTN Urdu
مسئلہ کشمیر کے نام پر اقتدار کا کھیل بند کرو: چودھری طارق فاروق کا فسادی کمیٹی کو انتباہ

مسئلہ کشمیر کے نام پر اقتدار کا کھیل بند کرو: طارق فاروق کا فسادی کمیٹی کو انتباہ

چودھری طارق فاروق کا فسادی کمیٹی کو شدید انتباہ؛ مسئلہ کشمیر کو سیاسی مفادات اور ذاتی اقتدار کی ڈھال بنانا بند کیا جائے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی حقوق، آئینی تحفظ اور معاشی ترقی دی جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کر رہے ہیں۔

گورنر راج نہ لگاتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہوتا، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہ کرتے تو صوبے کو دہشت گردی سے مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور سکیورٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا بیانیہ جھوٹ کا پلندہ: پاکستان کے سفارتی حقائق اور طالبان کی ہٹ دھرمی

ذبیح اللہ مجاہد کا بیانیہ جھوٹ کا پلندہ: پاکستان کے سفارتی حقائق اور طالبان کی ہٹ دھرمی

ذبیح اللہ مجاہد کے جھوٹے بیانیے کا سچ: پاکستان کی سفارتی کوششوں، فتنۃ الخوارج کی افغان سرپرستی اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کا مکمل جائزہ۔

October 31, 2026

افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا یہ دعویٰ کہ پاکستان مذاکرات نہیں چاہتا، سراسر جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کے لیے سفارتی راستوں کو ترجیح دی ہے، جبکہ طالبان حکومت دہشت گردی کی سرپرستی سے باز نہیں آئی۔

پاکستان نے طالبان حکومت کے سامنے اپنے تحفظات رکھنے کے لیے ہر ممکن سفارتی راستہ اختیار کیا۔ اس سلسلے میں افغان حکام کو 836 احتجاجی مراسلے ارسال کیے گئے، 13 باضابطہ سفارتی احتجاج ریکارڈ کرائے گئے، اور سرحد پر امن وامان برقرار رکھنے کے لیے 225 فلیگ میٹنگز کی گئیں۔

سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے 8 مشترکہ رابطہ کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کیے گئے اور پاکستان کی جانب سے اعلیٰ سطح کے دورے بھی کیے گئے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے قطر، ترکیہ اور چین کی ثالثی کو کھلے دل سے قبول کرتے ہوئے دوحہ، استنبول اور ارومچی میں ہونے والے مذاکرات میں بھی فعال شرکت کی۔

دہشت گردی کے خاتمے پر طالبان کا انکار

ہر عالمی و علاقائی فورم پر پاکستان کا صرف ایک ہی بنیادی مطالبہ رہا ہے کہ فتنۃ الخوارج (FAK) کو افغان سرزمین پر پناہ دینا بند کی جائے۔ پاکستان نے افغان طالبان سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی تحریری ضمانتیں اور ان کے خاتمے کی تصدیق کے لیے ایک قابلِ عمل طریقہ کار مانگا۔

طالبان حکومت نے پاکستان کے تمام مطالبات کو مسلسل مسترد کیا۔ انہوں نے فتنۃ الخوارج کو پاکستان کا داخلی مسئلہ قرار دیتے ہوئے نہ تو کوئی تحریری ضمانت دی اور نہ ہی کسی تصدیقی نظام کو قبول کیا۔ حد تو یہ ہے کہ جب پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، تو طالبان حکومت نے پاکستان پر ڈرون اور توپ خانے سے حملے کر دیے۔

طالبان کا رویہ مذاکرات کی پیش رفت کے بجائے دہشت گردی میں معاونت کے مترادف ہے۔ پاکستان نے سفارت کاری کو ترک نہیں کیا، بلکہ مسلسل سفارتی کوششوں کے ناکام ہونے کے بعد انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کیں۔ یہ تمام اقدامات پاکستان کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت اور قومی سلامتی کا مظہر ہیں۔

ایک طرف ذبیح اللہ مجاہد دنیا کے سامنے امن کا پرچار کرتے ہیں، تو دوسری طرف ان کی حکومت فتنۃ الخوارج کے بم سازوں کو پناہ دیتی ہے اور انہیں خواتین اور بچوں کی آڑ میں چھپاتی ہے۔ افغان طالبان حکومت دراصل ایک دہشت گرد حکومت ہے، اور ذبیح اللہ مجاہد اس کا جھوٹا چہرہ ہیں جن کا ہر بیان دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے۔

متعلقہ مضامین

اڈیالہ جیل میں پمز کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی فالو اَپ چیکنگ اور ضروری طبی ٹیسٹ مکمل کیے۔

October 31, 2026

چودھری طارق فاروق کا فسادی کمیٹی کو شدید انتباہ؛ مسئلہ کشمیر کو سیاسی مفادات اور ذاتی اقتدار کی ڈھال بنانا بند کیا جائے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی حقوق، آئینی تحفظ اور معاشی ترقی دی جائے۔

October 31, 2026

پشاور میں مولانا فضل الرحمٰن کے مدارس اور سیاسی ہیڈکوارٹر کی قانونی حیثیت، بجلی و گیس کی سبسڈی اور ٹی ٹی پی سے مبینہ تعلقات پر سوالات اٹھائے گئے۔

October 31, 2026

پاکستان اور اقوام متحدہ کی پانچ روزہ عالمی کانفرنس میں 22 ممالک کے مندوبین سمیت 250 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے قدرتی آفات سے پہلے انتباہ اور خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا۔

October 31, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *