افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا یہ دعویٰ کہ پاکستان مذاکرات نہیں چاہتا، سراسر جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کے لیے سفارتی راستوں کو ترجیح دی ہے، جبکہ طالبان حکومت دہشت گردی کی سرپرستی سے باز نہیں آئی۔
پاکستان نے طالبان حکومت کے سامنے اپنے تحفظات رکھنے کے لیے ہر ممکن سفارتی راستہ اختیار کیا۔ اس سلسلے میں افغان حکام کو 836 احتجاجی مراسلے ارسال کیے گئے، 13 باضابطہ سفارتی احتجاج ریکارڈ کرائے گئے، اور سرحد پر امن وامان برقرار رکھنے کے لیے 225 فلیگ میٹنگز کی گئیں۔
سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے 8 مشترکہ رابطہ کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کیے گئے اور پاکستان کی جانب سے اعلیٰ سطح کے دورے بھی کیے گئے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے قطر، ترکیہ اور چین کی ثالثی کو کھلے دل سے قبول کرتے ہوئے دوحہ، استنبول اور ارومچی میں ہونے والے مذاکرات میں بھی فعال شرکت کی۔
دہشت گردی کے خاتمے پر طالبان کا انکار
ہر عالمی و علاقائی فورم پر پاکستان کا صرف ایک ہی بنیادی مطالبہ رہا ہے کہ فتنۃ الخوارج (FAK) کو افغان سرزمین پر پناہ دینا بند کی جائے۔ پاکستان نے افغان طالبان سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی تحریری ضمانتیں اور ان کے خاتمے کی تصدیق کے لیے ایک قابلِ عمل طریقہ کار مانگا۔
طالبان حکومت نے پاکستان کے تمام مطالبات کو مسلسل مسترد کیا۔ انہوں نے فتنۃ الخوارج کو پاکستان کا داخلی مسئلہ قرار دیتے ہوئے نہ تو کوئی تحریری ضمانت دی اور نہ ہی کسی تصدیقی نظام کو قبول کیا۔ حد تو یہ ہے کہ جب پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، تو طالبان حکومت نے پاکستان پر ڈرون اور توپ خانے سے حملے کر دیے۔
طالبان کا رویہ مذاکرات کی پیش رفت کے بجائے دہشت گردی میں معاونت کے مترادف ہے۔ پاکستان نے سفارت کاری کو ترک نہیں کیا، بلکہ مسلسل سفارتی کوششوں کے ناکام ہونے کے بعد انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کیں۔ یہ تمام اقدامات پاکستان کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت اور قومی سلامتی کا مظہر ہیں۔
ایک طرف ذبیح اللہ مجاہد دنیا کے سامنے امن کا پرچار کرتے ہیں، تو دوسری طرف ان کی حکومت فتنۃ الخوارج کے بم سازوں کو پناہ دیتی ہے اور انہیں خواتین اور بچوں کی آڑ میں چھپاتی ہے۔ افغان طالبان حکومت دراصل ایک دہشت گرد حکومت ہے، اور ذبیح اللہ مجاہد اس کا جھوٹا چہرہ ہیں جن کا ہر بیان دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے۔





