"> مسئلہ کشمیر کے نام پر اقتدار کا کھیل بند کرو
مسئلہ کشمیر کے نام پر اقتدار کا کھیل بند کرو: چودھری طارق فاروق کا فسادی کمیٹی کو انتباہ

مسئلہ کشمیر کے نام پر اقتدار کا کھیل بند کرو: طارق فاروق کا فسادی کمیٹی کو انتباہ

چودھری طارق فاروق کا فسادی کمیٹی کو شدید انتباہ؛ مسئلہ کشمیر کو سیاسی مفادات اور ذاتی اقتدار کی ڈھال بنانا بند کیا جائے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی حقوق، آئینی تحفظ اور معاشی ترقی دی جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کر رہے ہیں۔

گورنر راج نہ لگاتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہوتا، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہ کرتے تو صوبے کو دہشت گردی سے مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور سکیورٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے۔

مسئلہ کشمیر کے نام پر اقتدار کا کھیل بند کرو: طارق فاروق کا فسادی کمیٹی کو انتباہ

چودھری طارق فاروق کا فسادی کمیٹی کو شدید انتباہ؛ مسئلہ کشمیر کو سیاسی مفادات اور ذاتی اقتدار کی ڈھال بنانا بند کیا جائے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی حقوق، آئینی تحفظ اور معاشی ترقی دی جائے۔
مسئلہ کشمیر کے نام پر اقتدار کا کھیل بند کرو: چودھری طارق فاروق کا فسادی کمیٹی کو انتباہ

چودھری طارق فاروق کا فسادی کمیٹی کو انتباہ: مسئلہ کشمیر پر سیاست ختم کر کے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق، آئینی تحفظ اور معاشی خوشحالی دی جائے۔

October 31, 2026

مسئلہ کشمیر کے نام پر ذاتی اقتدار اور سیاسی مفادات کا کھیل بند کیا جائے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے وابستگی ہمارا اصولی مؤقف ہے، اور “کشمیر بنے گا پاکستان” کی اصل روح عوام کی آزادانہ رائے سے الحاق کی خواہش ہے، جسے سیاسی ڈھال نہیں بنایا جا سکتا۔

گزشتہ آٹھ دہائیوں کے بدلتے زمینی حقائق اور پاکستان، بھارت و چین سے جڑی علاقائی پیچیدگیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی قیادت کو جذباتی نعرے بازی کے بجائے حقیقت پسندی، آئینی بصیرت اور کشمیری عوام کے حقیقی مفادات کو مدِنظر رکھ کر سنجیدہ فیصلے کرنا ہوں گے۔

مسئلہ کشمیر کے حتمی حل تک آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ناقابلِ قبول ہے۔ کسی تنازع کا برقرار رہنا عوام کو انصاف، تعلیم، روزگار اور معاشی ترقی کی فراہمی مؤخر کرنے کا جواز ہرگز نہیں بن سکتا۔

آزاد جموں و کشمیر کی منتخب اسمبلی، حکومت، عدلیہ اور انتظامی ادارے عوام کی امانت ہیں۔ ان اداروں کو ذاتی یا سیاسی مفادات کے تابع کرنے کے بجائے مضبوط، شفاف اور جواب دہ بنایا جائے تاکہ خطے کی داخلی خوداختیاری اور جمہوری اختیار کا عملی تحفظ ممکن ہو سکے۔

گلگت بلتستان کی الگ قانونی حیثیت

گلگت بلتستان کا تاریخی، قانونی اور انتظامی پس منظر آزاد کشمیر سے مختلف ہے۔ دونوں خطوں کی الگ حیثیت اور مقامی تقاضوں کا احترام کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام کو ان کی ضروریات کے مطابق آئینی تحفظ، مؤثر نمائندگی اور معاشی مواقع فراہم کیے جائیں۔

ہر انتظامی یا آئینی اصلاح کو صوبہ بنانے، ریاستی تشخص مٹنے یا تحریکِ آزادی ختم ہونے سے جوڑ کر خوف پھیلانے کی پالیسی بند ہونی چاہیے۔ کسی بھی تجویز کو اس کے اصل متن، عوامی رضامندی اور حقِ خودارادیت کے اصولوں پر پرکھا جانا چاہیے۔

پاکستان اپنی تاریخی وابستگی کو عملی ترقی، دفاع اور آئینی حقوق کے تحفظ سے مزید مضبوط کرے۔ حکومتِ پاکستان اور مقامی حکومتیں قابلِ رسائی انصاف اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی مشترکہ آئینی و اخلاقی ذمہ داری پوری کریں۔

مقامی قیادت عوامی جذبات کو اقتدار کی سیڑھی بنانا چھوڑ دے اور ذاتی مفادات پر عوامی خدمت کو ترجیح دے۔ حقِ خودارادیت اور ریاستی تشخص کی حفاظت کے ساتھ آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانا ہی قیادت کا اصل امتحان ہے۔

متعلقہ مضامین

اڈیالہ جیل میں پمز کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی فالو اَپ چیکنگ اور ضروری طبی ٹیسٹ مکمل کیے۔

October 31, 2026

پشاور میں مولانا فضل الرحمٰن کے مدارس اور سیاسی ہیڈکوارٹر کی قانونی حیثیت، بجلی و گیس کی سبسڈی اور ٹی ٹی پی سے مبینہ تعلقات پر سوالات اٹھائے گئے۔

October 31, 2026

پاکستان اور اقوام متحدہ کی پانچ روزہ عالمی کانفرنس میں 22 ممالک کے مندوبین سمیت 250 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے قدرتی آفات سے پہلے انتباہ اور خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا۔

October 31, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *