مسئلہ کشمیر کے نام پر ذاتی اقتدار اور سیاسی مفادات کا کھیل بند کیا جائے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے وابستگی ہمارا اصولی مؤقف ہے، اور “کشمیر بنے گا پاکستان” کی اصل روح عوام کی آزادانہ رائے سے الحاق کی خواہش ہے، جسے سیاسی ڈھال نہیں بنایا جا سکتا۔
گزشتہ آٹھ دہائیوں کے بدلتے زمینی حقائق اور پاکستان، بھارت و چین سے جڑی علاقائی پیچیدگیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی قیادت کو جذباتی نعرے بازی کے بجائے حقیقت پسندی، آئینی بصیرت اور کشمیری عوام کے حقیقی مفادات کو مدِنظر رکھ کر سنجیدہ فیصلے کرنا ہوں گے۔
مسئلہ کشمیر کے حتمی حل تک آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ناقابلِ قبول ہے۔ کسی تنازع کا برقرار رہنا عوام کو انصاف، تعلیم، روزگار اور معاشی ترقی کی فراہمی مؤخر کرنے کا جواز ہرگز نہیں بن سکتا۔
آزاد جموں و کشمیر کی منتخب اسمبلی، حکومت، عدلیہ اور انتظامی ادارے عوام کی امانت ہیں۔ ان اداروں کو ذاتی یا سیاسی مفادات کے تابع کرنے کے بجائے مضبوط، شفاف اور جواب دہ بنایا جائے تاکہ خطے کی داخلی خوداختیاری اور جمہوری اختیار کا عملی تحفظ ممکن ہو سکے۔
گلگت بلتستان کی الگ قانونی حیثیت
گلگت بلتستان کا تاریخی، قانونی اور انتظامی پس منظر آزاد کشمیر سے مختلف ہے۔ دونوں خطوں کی الگ حیثیت اور مقامی تقاضوں کا احترام کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام کو ان کی ضروریات کے مطابق آئینی تحفظ، مؤثر نمائندگی اور معاشی مواقع فراہم کیے جائیں۔
ہر انتظامی یا آئینی اصلاح کو صوبہ بنانے، ریاستی تشخص مٹنے یا تحریکِ آزادی ختم ہونے سے جوڑ کر خوف پھیلانے کی پالیسی بند ہونی چاہیے۔ کسی بھی تجویز کو اس کے اصل متن، عوامی رضامندی اور حقِ خودارادیت کے اصولوں پر پرکھا جانا چاہیے۔
پاکستان اپنی تاریخی وابستگی کو عملی ترقی، دفاع اور آئینی حقوق کے تحفظ سے مزید مضبوط کرے۔ حکومتِ پاکستان اور مقامی حکومتیں قابلِ رسائی انصاف اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی مشترکہ آئینی و اخلاقی ذمہ داری پوری کریں۔
مقامی قیادت عوامی جذبات کو اقتدار کی سیڑھی بنانا چھوڑ دے اور ذاتی مفادات پر عوامی خدمت کو ترجیح دے۔ حقِ خودارادیت اور ریاستی تشخص کی حفاظت کے ساتھ آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانا ہی قیادت کا اصل امتحان ہے۔





