جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان سے منسلک مدارس و سیاسی ہیڈکوارٹر کے حوالے سے مختلف الزامات اور سوالات سامنے آئے ہیں۔ پشاور میں مبینہ تجاوزات، بجلی اور گیس کی سبسڈی کے استعمال اور مدارس میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مبینہ دہشت گردوں کو پناہ دینے کے دعووں نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق پشاور کے بعض شہریوں نے مولانا فضل الرحمٰن سے منسوب مدرسے اور سیاسی ہیڈکوارٹر کے اخراجات اور قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اگر عمارتیں غیر قانونی ہیں تو ان کے خلاف بھی دیگر تجاوزات کی طرح کارروائی کی جائے۔
شہریوں کی جانب سے مبینہ طور پر چندہ جمع کرنے کے لیے دس دس روپے کے عطیات اور شفاف ڈبے رکھنے کا حوالہ بھی سامنے آیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے اداروں کے اخراجات میں شفافیت اور عوامی وسائل کے استعمال کا حساب دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بجلی اور گیس کی سبسڈی پر سوالات
مولانا فضل الرحمٰن سے منسلک سیاسی ہیڈکوارٹر میں بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کسی عمارت کو مذہبی ادارے کی حیثیت سے سبسڈی مل رہی ہے تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ وہاں سیاسی سرگرمیاں بھی جاری ہیں یا نہیں۔
ان کا مطالبہ ہے کہ بجلی اور گیس کے بلوں کی نوعیت، عمارت کے قانونی استعمال اور سرکاری رعایتوں کی تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں سبسڈی کے مبینہ غلط استعمال کا کوئی مستند ثبوت یا سرکاری ریکارڈ شامل نہیں ہے۔
فضل الرحمٰن کے بیان پر کرک کے شہریوں کا ردعمل
دوسری جانب کرک کے ایک شہری نے مولانا فضل الرحمٰن کے مبینہ طور پر لفظ ’تھو‘ استعمال کرنے پر شدید اعتراض کیا ہے۔ شہری کا کہنا ہے کہ ماں ایک مقدس رشتہ ہے اور اس کے لیے ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہییں۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن سے اپنے الفاظ پر پاکستانی عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ٹی ٹی پی سے تعلقات کا معاملہ
اس معاملے میں تحریک طالبان پاکستان کے موجودہ امیر نور ولی محسود اور سابق امرا بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کی دینی تعلیم کے حوالے سے بھی دعوے کیے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان شخصیات نے جمعیت علمائے اسلام سے منسلک مدارس میں تعلیم حاصل کی تھی۔
اس کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام کے سابق رہنما مولانا گل نصیب خان سے منسوب ایک بیان بھی شیئر کیا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کے مدارس میں ٹی ٹی پی کے مبینہ دہشت گردوں کو پناہ دینے اور تربیت فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
یہ الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں، تاہم ان کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ اداروں کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔ کسی مدرسے یا اس کی انتظامیہ کو محض سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں کی بنیاد پر دہشت گردی میں ملوث قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مجموعی طور پر شہریوں کی جانب سے عمارتوں کی قانونی حیثیت، عوامی وسائل کے استعمال اور مدارس کے انتظامی معاملات میں شفافیت کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ ان الزامات پر مولانا فضل الرحمٰن اور جمعیت علمائے اسلام کا مؤقف بھی اہمیت رکھتا ہے۔





