"> انڈونیشیا: ایک ہی ماہ میں ہزاروں اموات

انڈونیشیا: ایک ہی ماہ میں ہزاروں اموات، آخر وجہ کیا بنی؟

انڈونیشیا میں ستمبر کے دوران جنگلاتی آگ کے زہریلے دھوئیں سے 3 ہزار 560 اموات کا تخمینہ لگایا گیا۔ آخر آگ کیسے پھیلی اور لاکھوں افراد کی زندگی خطرے میں کیوں پڑ گئی؟
انڈونیشیا: ایک ہی ماہ میں ہزاروں اموات

انڈونیشیا میں جنگلاتی آگ کے دھوئیں سے ایک ماہ میں 3 ہزار 560 اموات کا تخمینہ، لاکھوں افراد فضائی آلودگی سے متاثر، بحران کی وجوہات کیا ہیں؟

November 2, 2026

دنیا میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات اب محض درجہ حرارت میں اضافے، موسموں کی تبدیلی یا سمندری سطح بلند ہونے تک محدود نہیں رہے۔ ان کے اثرات انسانی صحت، معیشت اور روزمرہ زندگی پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا کا ملک انڈونیشیا اس وقت اسی نوعیت کے ایک سنگین ماحولیاتی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں جنگلاتی آگ سے اٹھنے والے زہریلے دھوئیں نے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔

صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف ستمبر 2026 میں فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات کا تخمینہ 5 ہزار 310 لگایا گیا، جن میں 3 ہزار 560 اموات کا تعلق جنگلاتی اور زمینی آگ کے دھوئیں سے تھا۔

توانائی اور صاف ہوا کے شعبے میں تحقیق کرنے والے ادارے سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کی 29 اکتوبر کو جاری کردہ رپورٹ نے اس بحران کی شدت کو نمایاں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر میں فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات میں اگست کے مقابلے میں 42 فیصد اضافہ ہوا۔ اگست میں یہ تعداد تقریباً 3 ہزار 740 تھی، جو ایک ماہ بعد بڑھ کر 5 ہزار 310 تک پہنچ گئی۔ ان میں سے ایک ہزار 750 اموات شہری اور صنعتی فضائی آلودگی سے منسوب کی گئیں۔

یہ اعداد و شمار محض سرکاری طور پر درج ہونے والی اموات کی تعداد نہیں بلکہ فضائی آلودگی کے انسانی صحت پر اثرات کی بنیاد پر محققین کے تخمینے ہیں۔ اس لیے انہیں براہ راست ہلاکتوں کی گنتی کے بجائے آلودگی سے منسوب اموات کے تخمینے کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ تاہم یہ تخمینہ بھی اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کسی معاشرے کے لیے خاموش مگر انتہائی خطرناک بحران بن سکتی ہے۔

جنگلاتی آگ کیسے خطرہ بنی؟

انڈونیشیا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں وسیع استوائی جنگلات، قدرتی وسائل اور حیاتیاتی تنوع موجود ہے۔ ملک کے مختلف جزائر میں پھیلے یہ جنگلات نہ صرف مقامی ماحول بلکہ عالمی ماحولیاتی نظام کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم خشک موسم، بلند درجہ حرارت اور طویل خشک سالی کے دوران جنگلات اور زمینوں میں لگنے والی آگ بڑے پیمانے پر پھیل جاتی ہے۔ اس مرتبہ بھی ال نینو سے وابستہ موسمی اثرات اور شدید خشک سالی نے آگ کے پھیلاؤ کے لیے سازگار حالات پیدا کیے۔

انڈونیشیا میں جنگلاتی آگ کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بعض علاقوں میں آگ صرف درختوں اور جھاڑیوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ زمین کے اندر موجود نامیاتی تہوں اور پیٹ لینڈز تک پہنچ جاتی ہے۔ پیٹ لینڈز ایسی زمینیں ہوتی ہیں جہاں ہزاروں سال میں جمع ہونے والے نامیاتی مادے کی موٹی تہیں موجود ہوتی ہیں۔ خشک ہونے کے بعد ان میں لگنے والی آگ زیر زمین بھی مسلسل جلتی رہ سکتی ہے اور اسے بجھانا عام جنگلاتی آگ کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

جب ایسی آگ طویل عرصے تک جلتی رہتی ہے تو فضا میں باریک ذرات، کاربن مونو آکسائیڈ اور دیگر مضر مادے خارج ہوتے ہیں۔ ان میں پی ایم 2.5 خاص طور پر خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ یہ انتہائی باریک ذرات انسانی بال کی موٹائی کے مقابلے میں بھی بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور سانس کے ذریعے پھیپھڑوں کے اندر گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں۔ بعض ذرات خون کے نظام میں بھی داخل ہو سکتے ہیں، جس سے سانس اور دل کی بیماریوں سمیت مختلف طبی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جنگلاتی آگ کا دھواں صرف آگ کے قریب رہنے والے افراد کے لیے خطرہ نہیں بنتا بلکہ ہوا کے رخ کے ساتھ دور دراز شہروں اور آبادیوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ انڈونیشیا میں بھی یہی صورتحال سامنے آئی، جہاں جنگلات سے اٹھنے والے دھوئیں نے بڑے شہری مراکز اور گنجان آباد علاقوں کو متاثر کیا۔

سب سے زیادہ متاثر

تحقیقی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی وجوہات یکساں نہیں رہیں۔ بورنیو جزیرے کے انڈونیشی حصے کلیمانتن میں جنگلاتی آگ کا دھواں فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات کا سب سے بڑا سبب تھا۔ وہاں مختلف صوبوں میں فضائی آلودگی سے منسوب اموات میں 94 سے 99 فیصد تک حصہ جنگلاتی آگ کے دھوئیں کا رہا۔

اسی طرح سماٹرا کے کئی علاقوں میں بھی فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات میں 80 فیصد سے زیادہ حصہ جنگلاتی اور زمینی آگ کے دھوئیں سے منسلک کیا گیا۔ اس کے برعکس جاوا میں شہری، صنعتی اور ٹرانسپورٹ سے پیدا ہونے والی آلودگی زیادہ نمایاں رہی۔ اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ انڈونیشیا کو ایک ہی نوعیت کے ماحولیاتی مسئلے کا سامنا نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں آلودگی کے الگ الگ ذرائع موجود ہیں۔

کلیمانتن میں فضائی آلودگی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شدید آلودگی کے دنوں میں خطرناک درجے کی آلودہ ہوا کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد 28 لاکھ سے بڑھ کر 64 لاکھ ہو گئی۔ مجموعی طور پر ستمبر کے دوران ملک میں تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ افراد کو غیر صحت بخش سے انتہائی خطرناک فضائی آلودگی کا سامنا کرنا پڑا۔

تحقیقی رپورٹ میں ستمبر کے دوران پی ایم 2.5 کی اوسط سطح تقریباً 36 مائیکروگرام فی مکعب میٹر بتائی گئی، جو عالمی ادارۂ صحت کی سالانہ رہنما حد 5 مائیکروگرام سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اگرچہ ماہانہ اوسط اور سالانہ رہنما حد کا تقابل احتیاط سے کرنا چاہیے، تاہم یہ فرق آلودگی کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

بچوں اور کمزور طبقات کو خطرہ

جنگلاتی آگ سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی کا سب سے زیادہ خطرہ بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور پہلے سے سانس یا دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو لاحق ہوتا ہے۔ بچوں کے پھیپھڑے ابھی نشوونما کے مراحل میں ہوتے ہیں، اس لیے باریک آلودہ ذرات ان کی صحت پر طویل مدتی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں انڈونیشیا کے سات متاثرہ صوبوں میں سانس کی نالی کے انفیکشن کے تقریباً 3 لاکھ 33 ہزار کیسز کا تخمینہ بھی پیش کیا گیا۔ ان کیسز میں تقریباً ایک چوتھائی پانچ سال سے کم عمر بچوں کے تھے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جنگلاتی آگ کے اثرات صرف فوری طبی مسائل تک محدود نہیں رہتے بلکہ بچوں کی نشوونما اور صحت کے مستقبل کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

ستمبر کے ابتدائی دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی تھی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یکم سے 9 ستمبر کے دوران متاثرہ علاقوں میں سانس کی بیماریوں کے کیسز 50 ہزار 891 سے بڑھ کر ایک لاکھ 13 ہزار 336 ہو گئے تھے۔ اس دوران سات صوبوں میں ایک کروڑ 25 لاکھ سے زیادہ افراد جنگلاتی آگ کے دھوئیں کی زد میں تھے۔

فضائی آلودگی کے اثرات صرف ہسپتالوں تک محدود نہیں رہے۔ مغربی کلیمانتن کے شہر پونتیانک میں دھوئیں کے باعث حدِ نگاہ ایک کلومیٹر سے بھی کم رہ گئی، جبکہ بعض علاقوں میں فضائی آلودگی نے پروازوں کو بھی متاثر کیا۔ سماٹرا میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنا پڑیں اور ملک بھر میں 14 لاکھ سے زیادہ طلبہ متاثر ہوئے۔ یوں ایک قدرتی ماحولیاتی بحران نے صحت کے ساتھ تعلیم اور روزمرہ معمولات کو بھی متاثر کیا۔

انڈونیشیا میں جنگلاتی آگ کا مسئلہ صرف ملکی حدود تک محدود نہیں رہا۔ جنوب مشرقی ایشیا کے جغرافیے میں ایک دوسرے کے قریب واقع ممالک اور جزائر کے باعث ہوا کے ساتھ آلودہ ذرات سرحد پار بھی منتقل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انڈونیشیا کے جنگلات سے اٹھنے والا دھواں ملائیشیا، سنگاپور، فلپائن اور مشرقی تیمور کے بعض علاقوں تک پہنچا۔

یہ صورتحال خطے کے لیے ایک مشترکہ ماحولیاتی چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک ملک میں جنگلاتی آگ لگنے سے دوسرے ممالک کی فضائی کیفیت، صحت اور معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس طرح جنگلاتی آگ کسی ایک ریاست کا داخلی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ علاقائی تعاون اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت پیدا کرتی ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا ماضی میں بھی سرحد پار دھوئیں اور فضائی آلودگی کے ایسے بحرانوں کا سامنا کرتا رہا ہے۔ انڈونیشیا میں جنگلات اور زمینوں کو جلانے کے واقعات کے بعد ملائیشیا اور سنگاپور سمیت دیگر ممالک میں فضائی آلودگی پر تشویش سامنے آتی رہی ہے۔ موجودہ صورتحال نے ایک مرتبہ پھر اس مسئلے کو علاقائی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔

حکومتی اقدامات اور پالیسی

جنگلاتی آگ پر قابو پانے اور متاثرہ آبادیوں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے انڈونیشیا کی حکومت نے مختلف اقدامات کیے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ بجھانے، متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے اور مصنوعی بارش برسانے کے لیے 72 ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات کیے گئے۔ اس کے علاوہ 2 ہزار 100 سے زیادہ ڈاکٹر اور طبی کارکن متاثرہ علاقوں میں بھیجے گئے، جبکہ لاکھوں ماسک تقسیم کیے گئے۔

حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے باوجود آگ کے پھیلاؤ اور فضائی آلودگی پر قابو پانے میں مشکلات سامنے آئیں۔ رپورٹ میں انڈونیشیا کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے بجٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 75 فیصد کمی کی نشاندہی بھی کی ہے۔ ادارے کے مطابق وسائل میں کمی نے آگ سے نمٹنے اور ہنگامی ردعمل کی صلاحیت کو متاثر کرنے کا خدشہ پیدا کیا۔

اس صورتحال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا صرف آگ لگنے کے بعد امدادی کارروائیاں کافی ہیں یا اس کے لیے طویل مدتی پالیسی کی بھی ضرورت ہے؟ جنگلاتی آگ کے خطرات کم کرنے کے لیے خشک موسم سے پہلے نگرانی کا مؤثر نظام، آگ کی ابتدائی نشاندہی، مقامی آبادی کی تربیت اور حساس علاقوں میں فوری کارروائی ضروری ہے۔ اسی طرح جنگلات اور پیٹ لینڈز کے تحفظ کے لیے ایسی پالیسی درکار ہے جو قدرتی وسائل کے استعمال اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کر سکے۔

اس مسئلے کا ایک اہم پہلو زمین کے استعمال اور جنگلاتی وسائل کا انتظام بھی ہے۔ اگر جنگلاتی علاقوں کو زرعی مقاصد یا دیگر معاشی سرگرمیوں کے لیے غیر محفوظ طریقے سے صاف کیا جائے تو آگ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے صرف فائر فائٹنگ کے آلات اور عملے میں اضافہ کافی نہیں ہوگا بلکہ زمین کے استعمال، جنگلات کے تحفظ اور متعلقہ قوانین پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔

ماحولیاتی بحران سے سبق

انڈونیشیا میں جنگلاتی آگ کی صورتحال دنیا کے لیے ایک اہم انتباہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ خشک سالی آگ کے خطرات بڑھاتی ہے، آگ فضائی آلودگی پیدا کرتی ہے اور آلودہ فضا انسانی صحت، تعلیم، معیشت اور علاقائی تعلقات کو متاثر کرتی ہے۔ اس پورے سلسلے میں سب سے زیادہ نقصان ان آبادیوں کو اٹھانا پڑتا ہے جن کے پاس محفوظ رہائش، بہتر طبی سہولتوں اور آلودگی سے بچاؤ کے وسائل محدود ہوتے ہیں۔

یہ بحران پاکستان سمیت ان ممالک کے لیے بھی اہم سبق رکھتا ہے جہاں جنگلاتی آگ، بڑھتا درجہ حرارت، خشک سالی اور فضائی آلودگی کے مسائل موجود ہیں۔ پاکستان میں بھی مختلف علاقوں میں جنگلاتی آگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں جنگلات کے تحفظ، آگ کی بروقت نشاندہی، مقامی آبادی کی تربیت اور فضائی آلودگی کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

انڈونیشیا کی موجودہ صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کو محض جنگلات بچانے یا درخت لگانے کی مہم تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ براہ راست انسانی صحت، معاشی استحکام اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ ستمبر 2026 میں فضائی آلودگی سے منسوب ہزاروں اموات اور کروڑوں افراد کا متاثر ہونا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جنگلات میں لگنے والی آگ کا دھواں سرحدوں کا پابند نہیں ہوتا اور اس کے اثرات انسانی زندگی کے ہر شعبے تک پہنچ سکتے ہیں۔

اگر جنگلات کے تحفظ، موسمیاتی خطرات سے نمٹنے اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے بحران مستقبل میں مزید سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

ہنگو میں بھائی کی فائرنگ سے نور رحمان، ان کی اہلیہ اور چار بچے جاں بحق ہوگئے۔ ملزم فرار ہے، پولیس نے گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

November 2, 2026

ایران پر حملوں کے بعد القاعدہ کی اعلیٰ قیادت اور سیف العدل کی افغانستان منتقلی کی اطلاعات، 45 خاندانوں کی آمد اور طالبان کی مبینہ سرپرستی پر خطے میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے۔

November 2, 2026

اسلام آباد میں الیکٹرک بس کی ٹکر سے 2 سالہ بچہ شدید زخمی، مشتعل شہریوں نے بس کے شیشے توڑ دیے۔

November 2, 2026

امریکہ سے افغان مہاجرین کی پالیسی پر طالبان کی نام نہاد تشویش نے ان کے اپنے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور سفارتی تنہائی کا پول کھول دیا۔

November 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *