ایران نے امریکہ کے ساتھ سفارتی مذاکرات کی بنیاد اپنی 7 نکاتی تجویز کو قرار دیتے ہوئے آئندہ چند روز میں اس پر عملدرآمد کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے اور کسی بھی معاہدے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ ضروری ہے۔
تہران میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کے مطالبات واضح اور منطقی ہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکہ کو اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور ایرانی مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی سفارتی رابطوں میں سہولت کاری کے لیے دوحہ گئے تھے۔ بقائی کے مطابق ایران کو امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد کسی نئی صورتِ حال کی توقع نہیں، تاہم سفارت کاری کے لیے تہران کی پیش کردہ 7 نکاتی تجویز ہی بنیادی نکتہ ہے۔
ایران کی دھمکی
ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی فوج دشمن کے حملے کا انتظار نہیں کرے گی بلکہ جوابی کارروائی کے وقت اور طریقے کا فیصلہ خود کرے گی۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ایرانی افواج دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنے اہداف کی فہرست مسلسل اپ ڈیٹ کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی جارحانہ کارروائی کے ارادے کے شواہد ملے تو ایران پیشگی اقدام بھی کر سکتا ہے۔
میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایران کا جواب فوری اور مؤثر ہوگا اور اس کی جغرافیائی حدود محدود نہیں ہوں گی۔
ادھر پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی حالیہ ہدایات کے بعد مستقبل کی ممکنہ جنگ کے لیے نئی منصوبہ بندی شروع کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے نئے اہداف کی نشاندہی اور ممکنہ کارروائیوں کے لیے نئے جغرافیائی محاذوں پر غور شروع کر دیا ہے۔
دو آئل ٹینکرز تباہ
دریں اثنا پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں ایک سپر ٹینکر میں شدید دھماکا ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق دونوں جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایک غیر مجاز راستہ استعمال کر رہے تھے۔ بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ جہازوں نے اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کر رکھے تھے اور امریکی فوج کی مبینہ مدد سے خفیہ طور پر گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایران کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تہران ایک طرف امریکہ کے ساتھ اپنی 7 نکاتی تجویز پر عملدرآمد کی امید ظاہر کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب جوہری مذاکرات سے انکار اور ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے سخت مؤقف بھی اختیار کیے ہوئے ہے۔ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز سے متعلق ایرانی دعوے نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔





