انسانی رشتوں کی تقدیس اور خلوص پر اس وقت شدید صدمہ طاری ہوتا ہے جب اپنوں کے لبادے میں چھپے ہوئے قاتل بے نقاب ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں گھر کو انسان کے لیے سب سے محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے جہاں انسان اپنے خون اور رشتوں کے درمیان بلا خوف و خطر سانس لیتا ہے۔ لیکن جب محافظ ہی محافظ کی جان کے درپے ہو جائیں اور دماس کی طرح سینے سے لپٹنے والے ہی آستین کے سانپ نکل آئیں تو معاشرتی اقدار کی بنیادیں ہل کر رہ جاتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں پیش آنے والے متعدد دل دہلا دینے والے واقعات نے اس تلخ حقیقت کو ایک بار پھر بے نقاب کیا ہے کہ مددگار نظر آنے والے چہرے ہمیشہ خیرخواہ نہیں ہوتے بلکہ بسا اوقات ان کے پیچھے انتہائی مکار اور سفاک کردار چھپے ہوتے ہیں۔
اس مکروہ رجحان کی سب سے دردناک اور لرزہ خیز مثال ملتان کے علاقے لطیف آباد میں پیش آنے والی وہ ہولناک واردات ہے جس نے ہر حساس دل کو دہلا کر رکھ دیا۔ ایک ایسا واقعہ جس میں پہلے ماں اور دو بیٹیوں کی آتشزدگی میں ہلاکت کا تاثر دے کر پوری فضا کو سوگوار کیا گیا اور مقتولین کے لیے آنسو بہائے گئے۔ معاشرے نے اسے ایک حادثہ سمجھ کر افسوس کا اظہار کیا لیکن جب قانون کے ہاتھ دراز ہوئے تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ گھناؤنا قتل تھا۔
اس اندوہناک واقعے کا اصل ڈراپ سین یہ نکلا کہ اس آتشزدگی کے ڈرامے کا ماسٹر مائنڈ کوئی غیر نہیں بلکہ سگا بیٹا ہی تھا جس نے غیرت کے نام پر ماں اور بہنوں کو بیدردی سے قتل کرنے کے بعد گھر کو تالہ لگایا اور پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ اس نے اس ہولناک واردات کو محض ایک حادثہ رنگ دینے کی کوشش کی تاکہ قانون اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک سکے۔ لیکن قدرت کا نظام اور جدید سی سی ٹی وی ٹیکنالوجی نے اس مکار چہرے کا نقاب الٹ دیا جب اس کے پٹرول خریدنے کی فوٹیج سامنے آگئی اور یوں قاتل اپنے ہی انجام کو پہنچ گیا۔
ایسے ہی المناک واقعات نے لاہور کے علاقے شاہدرہ اور گجرات سمیت ملک کے مختلف حصوں میں بھی انسانیت کو شرمشار کیا ہے۔ شاہدرہ میں چالیس سالہ ذہنی معذور شہری محمد عتیق اصغر کے اندھے قتل کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا جہاں مقتول کا اپنا سگا بڑا بھائی ہی مرکزی قاتل نکلا۔ ملزم نے بھائی کو دریائے راوی کے قریب لے جا کر بے دردی سے قتل کیا، لاش پانی میں پھینک دی اور خود تھانے جا کر اپنے ہی بھائی کے اغواء کا جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا۔
اسی طرح گجرات میں بیرون ملک سے واپس آنے والے بھائی نے بیرون ملک سے واپسی پر سرپرائز دینے کے بہانے اپنے بھائی کو بلا کر قتل کیا اور بعد ازاں تدفین میں بھی شریک رہا اور خود کو لاعلم ظاہر کرتا رہا۔ دہلی کے تہرے قتل کیس میں بھی یہی مکروہ داستان دہرائی گئی جہاں گھر کا بیٹا ارجن والدین کی سالگرہ کے روز ہی قاتل بن گیا اور پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے خود ہی جھوٹی کہانیاں سناتا رہا۔
یہ تمام واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ خونی رشتے اب عدم تحفظ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ جن رشتوں سے انسان امید، محبت اور سہارے کی آس رکھتا ہے، وہی بسا اوقات سب سے بڑے خطرے کی گھنٹی بن جاتے ہیں۔ بظاہر مددگار، غمگسار، اور دکھ درد میں شریک نظر آنے والے کئی کردار درحقیقت اندر سے اتنے ہی مکار اور سنگدل ہوتے ہیں کہ وہ اپنے ہی پیاروں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر انسانیت کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اندھے اعتماد کے بجائے معاشرتی رویوں میں توازن پیدا کریں، نفسیاتی الجھنوں اور گھریلو ناچاقیوں کو وقت پر حل کریں، اور قانون کی گرفت کو اتنا سخت بنائیں کہ کوئی بھی مکار کردار رشتوں کے تقدس کو پامال کرنے کی جرات نہ کر سکے۔





