سعودی عرب اور شام نے دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیے۔ دونوں ممالک نے علاقائی کشیدگی کم کرنے، سمندری راستوں کو محفوظ بنانے اور عالمی توانائی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔
سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور شامی صدر احمد الشرع کے درمیان ریاض میں ملاقات ہوئی۔ یہ دورہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر کیا گیا۔
مذاکرات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خبردار کیا کہ خطے میں فوجی تصادم علاقائی و عالمی سلامتی، سمندری جہاز رانی، توانائی کی فراہمی اور عالمی معیشت کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
سمندری راستوں پر مشترکہ مؤقف
سعودی عرب اور شام نے بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات فوری روکنے پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی استحکام کے لیے بین الاقوامی کوششیں مضبوط بنانے اور علاقائی و عالمی معاملات پر باہمی مشاورت جاری رکھنے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
دورے کے دوران سعودی اور شامی وزارت دفاع کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔
اس کے علاوہ صنعتی تعاون، زراعت اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں بھی متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر اتفاق کیا گیا۔
سعودی فنڈ برائے ترقی نے شام میں بنیادی ڈھانچے، صحت، رہائش اور مالیاتی خدمات سے متعلق منصوبوں کے لیے بھی معاہدے کیے۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔





