اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے سیاسی حریف اور سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کو نئی حکومت تشکیل دینے کی دعوت دے دی ہے۔ انہیں حکومت سازی کے لیے 28 دن کی مہلت دی گئی ہے، جس میں مزید 14 دن کی توسیع ممکن ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق گادی آئزن کوٹ کے سامنے حکومت بنانے کے لیے مختلف سیاسی راستے موجود ہیں۔ ان میں عرب جماعتوں کی بیرونی حمایت سے اقلیتی حکومت کا قیام، مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد یا نیتن یاہو کے ساتھ قومی حکومت تشکیل دینا شامل ہے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ میں مجموعی طور پر 120 نشستیں ہیں، جبکہ حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہے۔
66 سالہ گادی آئزن کوٹ ماضی میں اسرائیلی فوج کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ وہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور نیتن یاہو کی قیادت پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔
گادی آئزن کوٹ نیتن یاہو کے ساتھ حکومت میں شامل ہونے کی مخالفت بھی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر گادی آئزن کوٹ حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے تو وہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والی اسرائیلی یہودی برادری سے ملک کے پہلے وزیراعظم ہوں گے۔
تاہم اگر وہ اور دیگر نامزد امیدوار حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہے تو اسرائیل میں دوبارہ انتخابات کرانے کی نوبت آ سکتی ہے۔





