دیوالی کے موقع پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والی فریحہ بلوچ نے اپنی والدہ اور بھائی کے ہمراہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بلوچستان کی آزادی کی تحریک کے لیے حمایت اور مدد کا مطالبہ کیا ہے۔
فریحہ بلوچ نے اپنے بیان میں پاکستانی ریاست پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بلوچ قوم کو اپنے ہی وطن میں شہریوں کے بجائے غلاموں کی مانند رکھا جا رہا ہے اور ان کے بنیادی حقوق کو نذرِ آتش کیا جا رہا ہے۔
اپنے خطاب میں فریحہ بلوچ نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ جہاں ہندوستانی شہری اپنے تہوار اپنوں کے ساتھ منا رہے ہیں، وہیں بلوچ عوام عید کے دنوں میں بھی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے اپنے لاپتہ پیاروں کے لیے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے پاکستان کے ساتھ رہنے کو مسترد کرتے ہوئے ایک آزاد بلوچستان کا نعرہ لگایا اور امید ظاہر کی کہ بھارت بلوچ عوام کی آواز بنے گا اور آزادی کے حصول میں ان کا ساتھ دے گا۔
اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد عوام اور تجزیہ کاروں میں شدید ردِعمل دیکھا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں ریاستی سالمیت اور قومی سیکیورٹی کو مقدم رکھنے والے لوگ اسے غداری اور دشمن ملک سے وفاداری سے تعبیر کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف کچھ مبصرین کا ماننا ہے کہ حقوق کی عدم فراہمی اور جبری گمشدگیوں جیسے بنیادی مسائل کا حل نہ ہونا ہی اس قسم کی شدید ناامیدی کو جنم دیتا ہے۔





