گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے سے متعلق پالیسی سازی اسلام آباد میں ہوگی، جلال آباد یا قندھار سے فیصلے نہیں کیے جائیں گے۔ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں بلکہ جنگ ہوگی اور اس جنگ میں کامیابی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ صوبے میں امن کے قیام کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ضروری ہیں اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
گورنر کے پی کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سابقہ پی ٹی آئی حکومت سنجیدہ نہیں تھی۔ ہم ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں واپسی کی گنجائش نہیں اور شکست ہمارے لیے کوئی آپشن نہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان فرار ہونے والے دہشت گردوں کو دوبارہ خیبرپختونخوا میں آباد کیا گیا۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔
اس موقع پر سیکرٹری داخلہ خیبرپختونخوا امجد علی نے کہا کہ صوبے میں پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے وسائل بڑھائے جائیں گے۔ پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے ساتھ اسلحہ، آلات اور دیگر ضروری سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ سی ٹی ڈی کے لیے 10 ارب 30 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ پولیس کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق پولیس اہلکاروں کی شہادت پر دیا جانے والا پیکیج دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
امجد علی نے سابقہ صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 22 اضلاع کے لیے 6 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم ان میں سے صرف ایک ارب روپے جاری کیے گئے۔
سیکرٹری داخلہ کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ایک ہزار سے زائد فوجی جوان شہید ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے ملک دشمن ہیں۔ دہشت گرد نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے کے لیے سوشل میڈیا کی نگرانی بہتر بنائی جا رہی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ سابقہ حکومت افغان مہاجرین کی واپسی میں تعاون نہیں کر رہی تھی۔





