سوشل میڈیا پر پاک فوج کے لیے نیا لگژری ایگزیکٹو جیٹ خریدنے کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کو حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دے دیا گیا ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری اعلامیے کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کسی نئے وی آئی پی طیارے کی خریداری کی منظوری نہیں دی گئی۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق وزارتِ دفاع کی درخواست پر منظور کی گئی 1.094 ارب روپے (تقریباً 3.9 ملین ڈالر) کی تکنیکی ضمنی گرانٹ طیارے کی شمولیت، لاجسٹک سپورٹ اور آپریشنل اخراجات کے لیے مختص کی گئی ہے۔ ہوابازی کے ماہرین کے مطابق اس رقم سے کوئی جیٹ نہیں خریدا جا سکتا کیونکہ اس ماڈل کی اصل قیمت 50 ملین ڈالر کے قریب ہے اور اس کی تیاری 2020ء میں بند ہو چکی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ لینیج 1000 پلیٹ فارم پاک بحریہ کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میری ٹائم پیٹرول پروگرام سی سلطان کا حصہ ہے، جو قومی سلامتی اور اسٹریٹجک دفاعی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس معمول کی آپریشنل گرانٹ کو بدنیتی کے تحت لگژری وی آئی پی طیارے کی خریداری بنا کر پیش کیا گیا۔
اس کے علاوہ، پراپیگنڈا اکاؤنٹس نے اسی ای سی سی اجلاس میں عوام کے لیے منظور کیے گئے 275 ارب روپے کے آبی و زرعی منصوبوں کو دانستہ طور پر چھپایا۔ اجلاس میں دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، کے-فور پراجیکٹ اور کچھی کینال کے علاوہ 15.625 ارب روپے کی بچت کو وزیرِ اعظم کفایت شعاری فنڈ میں منتقل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 275 ارب روپے کے عوام دوست منصوبوں اور کفایت شعاری کے اقدامات پر خاموشی اختیار کر کے صرف 3.9 ملین ڈالر کی دفاعی گرانٹ کو مسخ کرنا ریاستی اداروں کے خلاف عوامی جذبات بھڑکانے کی ناکام کوشش ہے۔





