امریکہ میں آر ایس ایس کے سربراہ کی تقریر سے قبل ہندوتوا نظریے کے خلاف امریکی سیاستدان اور عوام میدان میں آ گئے ہیں۔
عالمی نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق نیویارک میں بھارتی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ کے پروگرام سے قبل بھرپور احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس سے وابستہ گروہ اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد میں ملوث ہے۔
عالمی جریدے ڈی ڈبلیو کے مطابق نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کو تفرقہ پسند قرار دیا ہے۔
مظاہرین کے الزامات
امریکہ میں جاری احتجاج کے دوران مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس نے مسلمانوں، سکھوں، دلتوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو فروغ دیا ہے۔ ٹی آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں سیاسی اثر و رسوخ کی حامل مودی کی جماعت بی جے پی بھی انتہا پسند آر ایس ایس کے نظریے پر ہی وجود میں آئی۔
بھارتی جریدے دی وائر نے بھی بھارتی سیاست کے علاوہ تعلیمی شعبے پر آر ایس ایس کے اثر و رسوخ کو آشکار کیا ہے۔ عالمی تجزیہ کار جیفرلو کرسٹوف کے مطابق بھارت میں من پسند نصاب کے ذریعے جامعات پر آر ایس ایس کے بڑھتے ہوئے غلبے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اقلیت مخالف نظریات کے حامل مودی کے ساتھ ساتھ ہندو تنظیم آر ایس ایس کو بھی عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔
دیکھیے: مودی حکومت کے خلاف کاکروچ پارٹی پھر سڑکوں پر، 5 ستمبر کو بڑے مارچ کا اعلان