اڈانی گروپ اور اس سے وابستہ کمپنیوں کے خلاف مبینہ طور پر ہتک آمیز مہم چلانے کے الزام میں قانونی کاروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ صحافی پر الزام ہے کہ انہوں نے ‘ایکس’ اور مختلف آن لائن ویب سائٹس پر ایسے مضامین اور ٹویٹس شائع کیے جن کا مقصد دانستہ طور پر کارپوریٹ ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔
ادارے کی جانب سے دائر کردہ مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ تحریریں حقائق کے برعکس اور ادارے کے تجارتی مفادات پر ضرب لگانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہیں۔ اس معاملے نے بھارت میں اظہارِ رائے کی آزادی اور کارپوریٹ اداروں کی جانب سے قانونی طاقت کے استعمال کے درمیان پائے جانے والے تعلق پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
اس پورے معاملے کا ایک اور اہم پہلو بھارتی سوشل میڈیا صارفین کا تضاد ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہی حلقے جو ماضی میں ایمان مزاری کی گرفتاری پر انسانی حقوق کی پامالی کا واویلا مچا رہے تھے، وہ اب بھارتی صحافی ‘نائر’ کی اسی نوعیت کے الزامات پر گرفتاری پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ناقدین اس رویے کو دوہرے معیار کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب مفادات اپنے ملک یا پسندیدہ بیانیے سے وابستہ ہوں تو آزادیِ اظہار کے اصول بدل دیے جاتے ہیں۔ یہ کیس نہ صرف کارپوریٹ سیکٹر کی قانونی جنگ کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ڈیجیٹل دور میں بیانیے کی تشکیل میں پائے جانے والے تضادات کو بھی صریح انداز میں واضح کرتا ہے۔
دیکھیے: سندھ طاس معاہدہ؛ عالمی عدالت کی ڈیڈ لائن ختم، بھارت ہائیڈرو پاور فراہم کرنے میں ناکام